
نئی دہلی، 18 اگست (ہ س)۔ دہلی کے جنتر منتر پر ہوئے طلبہ کے مظاہرے اور اس سے ابھری نوجوان قیادت کو لے کر پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ طلبہ کی تشویش جائز ہے اور ان سے بات چیت کی جانی چاہیے۔ حالانکہ، انہوں نے الزام لگایا کہ عام آدمی پارٹی اور کچھ دیگر سیاسی جماعتیں طلبہ کے مسئلے کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
رجیجو نے کہا کہ مہاراشٹر کے ابھیجیت دیپکے عام آدمی پارٹی سے وابستہ ہیں، ایسے میں ان کے طلبہ تحریک کا حصہ بننے پر سوال اٹھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے ساتھ بات چیت کی جا سکتی ہے، کیونکہ ان میں جوش اور توانائی ہوتی ہے۔ لیکن سیاسی جماعتیں اگر طلبہ کے پیچھے چھپ کر اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کریں تو یہ درست نہیں ہے۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا بی جے پی جین زی یعنی نئی نوجوان نسل سے جڑنے میں پیچھے رہ گئی ہے، رجیجو نے اس سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں سے رابطے میں کوئی کمی نہیں ہے۔ ان کے مطابق، نوجوان ہمارے اپنے بچے ہیں اور ہندوستانی نیز ایشیائی معاشرے میں خاندان کے درمیان مضبوط تعلقات ہوتے ہیں۔
رجیجو نے کہا کہ نئی نسل کی باتوں اور مطالبات کو صرف مسترد کرنے کے بجائے انہیں سننا اور اپنی بات بھی سمجھانا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں اور حکومت کے درمیان مسلسل رابطہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق، اگر نوجوانوں کو مسلسل صرف مطالبات کرنے کے لیے اکسایا جائے گا، تو فاصلے کم کرنے میں وقت لگے گا۔ اس لیے حل کا راستہ بات چیت اور باہمی سمجھ سے ہی نکلے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن