
تل ابیب،18اگست(ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشرق وسطیٰ سے متعلق مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے والے امریکی نمائندہ جیرڈ کُشنر نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے اور ٹرمپ انتظامیہ کے امن منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے آئندہ 30 سے 90 دن انتہائی اہم ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق حماس کے ہتھیار جمع کرنے کا عمل تقریباً 30 دن میں شروع ہونے کی توقع ہے، جبکہ غزہ کی بعض سرنگوں کو ختم کرنے کا کام 60 سے 90 دن کے اندر شروع کیا جا سکتا ہے۔فوکس نیوز کو تل ابیب میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کُشنر نے کہا کہ امریکہ غزہ میں امن منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے دونوں فریقوں کے تعاون کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مطلوبہ تعاون حاصل ہوتا ہے تو آئندہ تقریباً 30 دن میں عملی پیش رفت دیکھنے کو مل سکتی ہے، جس میں حماس کے بعض ہتھیاروں کو جمع کرنے کا عمل بھی شامل ہو سکتا ہے۔
کُشنر نے کہا کہ حماس کے فوجی ڈھانچے کو ختم کرنا ایک پیچیدہ مرحلہ ہے اور بعض سرنگوں کے خاتمے کا عمل شروع ہونے میں 60 سے 90 دن لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبے کی کامیابی کا انحصار فریقین کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد پر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کے دفاعی حق کو محدود کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ کُشنر کے مطابق اگر اسرائیل کو کسی فوری اور براہِ راست خطرے کا سامنا ہوتا ہے تو واشنگٹن اس کے اپنے دفاع کے حق میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔کُشنر نے بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ تقریباً چار گھنٹے طویل ملاقات کی، جس میں غزہ کی صورتحال سمیت متعدد حساس اور متنازع امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کے بقول اسرائیلی قیادت نے کچھ ایسے خدشات کا اظہار کیا جن پر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وضاحت اور یقین دہانی کرائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ غزہ کی تعمیر نو میں مدد کے لیے تیار ہے، لیکن تعمیر نو کا عمل حماس کے فوجی ڈھانچے کے خاتمے سے منسلک ہوگا۔ ان کے مطابق کسی ایسے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا کوئی فائدہ نہیں جہاں دوبارہ مسلح گروپ کا کنٹرول قائم ہونے کا خدشہ ہو۔کُشنر نے دعویٰ کیا کہ حماس کے بعض عہدیداروں کے ساتھ ان کی ملاقاتیں نسبتاً دوستانہ ماحول میں ہوئیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی مسلح تنظیم پر اعتماد کرنا آسان نہیں ہے۔ ان کے مطابق آئندہ مرحلے میں حماس کے ہتھیاروں اور اس کے فوجی انفراسٹرکچر کا معاملہ سب سے اہم چیلنجز میں شامل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حماس آئندہ 60 سے 90 دن کے دوران رضاکارانہ طور پر ہتھیار چھوڑ دیتی ہے یا اس سے انکار کرتی ہے، دونوں صورتوں میں اسرائیل کو امریکی اور دیگر بین الاقوامی فریقوں کی جانب سے مزید حمایت حاصل ہوگی تاکہ وہ اپنے طے شدہ اہداف حاصل کر سکے۔
کُشنر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد اگلے مرحلے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہے۔ کُشنر نے اسرائیل روانگی سے قبل مصر میں حماس کے سیاسی رہنما خلیل الحیہ سے بھی ملاقات کی تھی، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات میں بھی جنگ بندی اور امن منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت ہوئی۔غزہ کے مستقبل کے حوالے سے بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ حماس اسرائیلی فوج کے غزہ سے مکمل انخلا اور جنگ بندی کی پاسداری پر زور دے رہی ہے، جبکہ اسرائیل حماس کے غیر مسلح ہونے اور اس کے فوجی ڈھانچے کے خاتمے کو آئندہ کسی بھی سیاسی انتظام کی بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پیش کیے گئے امن منصوبے میں غزہ میں جنگ کے خاتمے، حماس کے غیر مسلح ہونے، اسرائیلی فوج کی مرحلہ وار واپسی اور علاقے کی تعمیر نو جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ تاہم ان نکات پر عمل درآمد کے طریقہ کار اور ٹائم لائن پر فریقین کے درمیان اختلافات تاحال موجود ہیں۔کُشنر کے مطابق آنے والے ہفتے اس منصوبے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں اور اگر دونوں جانب سے تعاون جاری رہا تو غزہ میں امن اور تعمیر نو کے عمل کو عملی شکل دینے کی سمت میں جلد پیش رفت ممکن ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan