جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ’تحریک آزادی میں اردو زبان اور تدریس پیشہ مجاہدین کا کردار‘ کے موضوع پر آن لائن خصوصی خطبے کا انعقاد
نئی دہلی،18اگست(ہ س)۔ اکادمی برائے فروغ ِ استعدادِ اردو میڈیم اساتذہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی کے زیر اہتمام یوم آزادی کی مناسبت سے مورخہ چودہ اگست دوہزار چھبیس بوقت سہ پہر ساڑھے تین بجے گوگل میٹ پر ایک خصوصی آن لائن خطبہ کا اہتمام کیا گیا۔آن لائ
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ’تحریک آزادی میں اردو زبان اور تدریس پیشہ مجاہدین کا کردار‘  کے موضوع پر آن لائن خصوصی خطبے کا انعقاد


نئی دہلی،18اگست(ہ س)۔ اکادمی برائے فروغ ِ استعدادِ اردو میڈیم اساتذہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی کے زیر اہتمام یوم آزادی کی مناسبت سے مورخہ چودہ اگست دوہزار چھبیس بوقت سہ پہر ساڑھے تین بجے گوگل میٹ پر ایک خصوصی آن لائن خطبہ کا اہتمام کیا گیا۔آن لائن خطبے کا موضوع ’تحریک آزادی میں اردو زبان اور تدریس پیشہ مجاہدین کا کردار‘ تھا۔اردو کے ممتاز محقق و ناقد ڈاکٹر صفدرامام قادری،شعبہ اردو،کالج آٖ ف کامرس،ٓرٹس اینڈ سائنس،پاٹلی پترا یونیورسٹی،پٹنہ نے یہ اہم خطبہ ارشاد فرمایا۔آن لائن خصوصی خطبے کے اجلاس کی صدارت پروفیسر جسیم احمد، اعزازی ڈائریکٹر،اکادمی برائے فروغ استعداد اردو میڈیم اساتذہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کی۔

اکیڈمی نے مختلف مواقع پر خصوصی خطبات کا سلسلہ منعقد کرنے میں ہر طرح کا تعاون فراہم کرنے پر عزت مآب پروفیسرپروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور،جامعہ کے قابل احترام مسجل، پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔آن لائن خطبہ کا آغاز جناب تاج محمد، طالب علم ایم۔ ایڈ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ بعد ازاں آن لائن خصوصی خطبہ کے کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر نوشاد عالم نے حاضرین اور مہمان خطیب کا خیر مقدم کیا۔آزادی کی مناسبت سے منعقد ہ خطبے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے اکیڈمی کے قیام کی تاریخ کے ساتھ ساتھ اس کے دائرہ کار سے بھی سامعین کو روشناس کرایا۔

پروگرام کے اگلے حصے میں ڈاکٹر واحد نظیر،اسسٹنٹ پروفیسر،اکادمی برائے فروغ استعداد اردو میڈیم اساتذہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مہمان خطیب کا جامع تعارف پیش کیا۔ انھوں نے بتایاکہ ڈاکٹر صفدر امام قادری کی تحریریں کیفیت اور کمیت ہردولحاظ سے خاص وقعت رکھتی ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں اور اپنی متنوع علمی و ادبی سرگرمیوں کی وجہ سے اردو کے ساتھ ساتھ ہندی دنیا میں بھی خاصے مقبول ہیں۔ان کے شاگردوں کاحلقہ کافی وسیع ہے جس سے طالب علموں کی تربیت کے تئیں ان کے کمٹ منٹ اور انتہائی خلوص کا اندازہ ہوتاہے۔مہمان خطیب نے گفتگو کے آغاز ہی میں کہا کہ اس عنوان کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ تحریک آزادی میں اردو زبان کے رول سے متعلق ہے اور دوسرا حصہ تدریس پیشہ ملازمین کے رول کے تعلق سے ہے۔ موضوع کے پہلے حصے پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ آزادی کے جذبے کو بیدار کرنے اور اس کی شمع فروزاں رکھنے میں ارود زبا ن کا غیر معمولی رول رہا ہے۔انھوں نے اردو صحافت، شاعری اورافسانہ کا ذکر کرتے ہوئے متعدد حوالے دیے جن سے تحریک آزادی میں اردو کے گراں قدر رول کی وضاحت ہوتی تھی۔ترقی پسند تحریک کے زیر اثر کی جانے والی شاعری اور افسانوں کا خاص طو ر پر ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ تحریک آزادی میں اردو کی اس اہم تحریک کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔اس موقع پر انھوں نے مہاتما گاندھی، سرسید،پریم چند،اقبال، ابو الکلام آزاد اورحالی جیسی اردو زبان و ادب کی مقتدر اور نابغہ روزگار شخصیات کی مہتم بالشان خدمات کا بھی ذکر کیا۔لیکچر کے عنوان کے دوسرے حصے میں انھوں نے تحریک آزادی میں علما کے گراں قدر رول کو خراج پیش کرتے ہوئے کہاکہ سب سے پہلے علما نے جو کہ مدرسین بھی تھے پہلی مرتبہ انگریزوں کی غلامی سے آزادی کو مذہبی فریضہ قراردیا۔تحریک آزادی کی سمت میں یہ ایک انقلابی قدم تھا۔انھوں نے تدریس پیشہ مجاہدین کا ذکر کرتے ہوئے مفتی صدر الدین آزردہؔ،امام بخش صہبائی،فضل حق خیر آبادی،مولوی محمد باقر،ذاکر حسین اور آچاریہ کرپلانی جیسے اساتذہ کی بے مثال قربانیوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔انھوں نے اس موقع پر بھگت سنگھ اور اشفاق اللہ خاں جیسے ملک کے جیالے نوجوانوں کی بے مثال قربانیوں کوبھی یادکیا۔ کیوں کہ ان نوجوانوں کی شہادت نے ملک کے نوجوان طبقے میں ملک کی آزادی کے تئیں نیا جوش اور نئی توانائی بھر دی تھی۔غرض مہمان خطیب ڈاکٹر صفدر امام قادری نے ملک کی آزادی میں اردو زبان و ادب کے رول کے ساتھ ساتھ تدریس پیشہ مجاہدین کی خدمات کا جامع انداز میں احاطہ کیا جس سے سامعین کو تحریک آزادی سے متعلق نئی بصیرت فراہم ہوئی۔

پروفیسر جسیم احمد، اعزازی ڈائریکٹر،اکادمی برائے فروغ استعداد اردو میڈیم اساتذہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ خطیب نے موضوع سے متعلق مختلف پہلوؤں کا انتہائی جامع اندازمیں احاطہ کیا ہے۔انھوں نے مزید کہاکہ ڈاکٹر صفدر امام قادری نے تحریک آزادی سے منسلک بہت سی ایسی اہم تفصیلات فراہم کی ہیں جن سے بیش تر لوگ آگاہ نہیں ہیں۔اس خصوص میں انھوں نے چمپارن ستیہ گرہ کے موقع پر گاندھی کے ذریعے دیہی عوام کے مسائل کو شہادت کی صورت میں قلم بند کیے جانے کو خاص طورپر اجا گر کیا اور کہا کہ یہ واقعہ تجرباتی تحقیق کی عمدہ مثال ہے۔پروفیسر جسیم احمد نے موضوع کی ندرت پر اظہار خیال کرتے ہوئے اسے اکیڈمی کے دائرہ کار سے مکمل طورپر آہنگ بتایا۔ اس اچھوتے اور اہم موضوع پر سیر حاصل اور بصیرت افروز گفتگو کے لیے معزز خطیب کا پرخلوص شکریہ بھی ادا کیا۔

ڈاکٹر حنا آفرین،اسسٹنٹ پروفیسر،اے پی ڈی یو ایم ٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اظہار تشکر کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ آن لائن لیکچر میں ملک بھر سے اردو میڈیم اساتذہ، اساتذہ معلمین،رسرچ اسکالرس اور طلبہ موجود رہے۔پروگرام کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر نوشاد عالم نے انجام دیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande