متنازعہ امتحانات کا منسوخ ہونا تحریک کی تاریخی جیت: دیویندر ناتھ مہتو
رانچی، 18 اگست (ہ س)۔ جھارکھنڈ میں جے پی ایس سی، جے ایس ایس سی، سی جی ایل اور ٹی ڈی پی ایل ایجنسی کی جانب سے منعقد متنازعہ امتحانات کو منسوخ کیے جانے کے بعد طلبہ رہنما دیویندرناتھ مہتو نے اسے تحریک کی تاریخی جیت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب نئ
پریس کانفرنس میں دیویندر ناتھ مہتو سمیت دیگر


رانچی، 18 اگست (ہ س)۔

جھارکھنڈ میں جے پی ایس سی، جے ایس ایس سی، سی جی ایل اور ٹی ڈی پی ایل ایجنسی کی جانب سے منعقد متنازعہ امتحانات کو منسوخ کیے جانے کے بعد طلبہ رہنما دیویندرناتھ مہتو نے اسے تحریک کی تاریخی جیت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب نئے، شفاف اور بدعنوانی سے پاک امتحان نظام کو نافذ کرانے کی لڑائی شروع ہوگی۔

دیویندر ناتھ مہتو منگل کے روز صدر اسپتال سے چھٹی ملنے کے بعد جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں واقع جائے ستیہ گرہ پر منعقد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا امتحان نظام ناگزیر ہے جس میں پرچہ افشا، دھاندلی اور سفارش کے ذریعے ملازمت حاصل کرنے کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ اہل امیدواروں کو لیاقت اور غیر جانبدارانہ عمل کی بنیاد پر ملازمت ملنے کی ضمانت ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بھرتی کا عمل مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور بدعنوانی سے پاک ہونے تک جدوجہد جاری رہے گی۔ تحریک کے دوران جن امتحانات کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھائے گئے تھے، ان میں جے ایس ایس سی-سی جی ایل سمیت ٹی ڈی پی ایل ایجنسی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے امتحانات شامل ہیں۔ ان امتحانات کو منسوخ کرنا طلبہ کے مفاد میں حکومت کا ایک اہم قدم ہے۔ دیویندر ناتھ نے بتایا کہ بھوک ہڑتال کے 17ویں دن صدر اسپتال میں وزیرِ صحت ڈاکٹر عرفان انصاری، وزیرِ دیہی ترقی دیپیکا پانڈے سنگھ اور ڈمری کے رکنِ اسمبلی جے رام مہتو کی موجودگی میں ان کا انشن ختم کرایا گیا تھا۔

انہوں نے تحریک کو کامیاب بنانے میں تعاون کرنے والے طلبہ، سرپرستوں، اساتذہ، میڈیا نمائندوں اور دیگر ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا۔ پریس کانفرنس کے دوران متعدد طلبہ اور دیگر افراد موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande