
تہران/واشنگٹن،18اگست(ہ س)۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے درمیان تہران نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہِ راست یا پسِ پردہ مذاکرات کی تردید کر دی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بعض عہدیداروں سے براہِ راست رابطے میں ہے۔ دونوں جانب سے آنے والے متضاد بیانات نے جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کی صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی سطح پر مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سفارتی معاملات وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں امریکی حکام کے ساتھ سفارتی ذرائع سے بھی کوئی بات چیت نہیں کی جا رہی۔ حسین محبی نے مذاکرات نہ ہونے کی ذمہ داری امریکا پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے وعدہ خلافیوں کے باعث سفارتی رابطوں کا سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ انہوں نے ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ بیانات تیل کی قیمتوں کو عارضی طور پر قابو میں رکھنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ایرانی ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر کے خیالی تصورات انہیں میدانِ جنگ میں کوئی مدد فراہم نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق امریکا کے لیے واحد راستہ شکست تسلیم کرنا اور ایرانی شرائط کو قبول کرنا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے میں جلد بازی سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن تہران کے معاملے میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے انتظار کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے عہدیداروں کے ساتھ ’’پسِ پردہ رابطوں‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا ایرانی حکام سے براہِ راست بات کر رہا ہے۔فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو ’’سفید جھنڈا لہرانا ہوگا‘‘۔ انہوں نے ایرانی قیادت کے بارے میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران پوکر کھیلنے میں ماہر ہے، لیکن اس وقت مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ٹرمپ اس سے قبل بھی واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ واشنگٹن کا بنیادی اور مستقل مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ایسے وقت میں برقرار ہے جب جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی مقررہ مدت اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس مفاہمت کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سمیت کئی حساس معاملات پر وسیع تر معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم موجودہ حالات میں اس کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔مقررہ مدت کے آخری دنوں میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی۔ ایران نے امریکی جانب سے ایرانی راستے کے متبادل بحری راستہ قائم کرنے کی کوشش کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آبنائے ہرمز بند کر دی، جس کے بعد امریکا نے بھی بحری محاصرہ دوبارہ نافذ کر دیا۔آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ یہ دنیا کے اہم ترین تیل کے بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس راستے میں طویل تعطل عالمی توانائی منڈی اور تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ادھر ایران کو اندرونی طور پر بھی شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے تمام سرکاری اداروں کو قیمتوں میں اضافے کا مقابلہ کرنے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو ’’اقتصادی جنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بندی پر زور دیا۔امریکی دباؤ اور بحری محاصرے کے باعث ایران کی تیل برآمدات متاثر ہونے، مقامی کرنسی کی قدر میں کمی اور مہنگائی میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ایسے میں تہران کو ایک طرف بیرونی دباؤ کا سامنا ہے تو دوسری جانب اندرونِ ملک بڑھتے ہوئے معاشی مسائل سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے۔موجودہ صورتحال میں ایران اور امریکا کے بیانات میں واضح تضاد نظر آ رہا ہے۔ تہران کسی بھی مذاکرات سے انکار کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن پسِ پردہ رابطوں کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اس کے باعث یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان سفارتی راستہ دوبارہ کھلے گا یا موجودہ کشیدگی مزید شدت اختیار کرے گی۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan