
امراوتی کے قبائلی آشرم اسکول میں سمیتِ غذا کا معاملہ، ایک طالب علم جاں بحق
امراوتی، 18 اگست (ہ س)۔ امراوتی شہر کے مہارشی پبلک اسکول میں قائم قبائلی آشرم اسکول کے متعدد طلبہ کے کھانے سے مبینہ طور پر فوڈ پوائزننگ کا شکار ہونے کے بعد الٹی اور دست کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ واقعے میں 7 طلبہ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جبکہ 11ویں جماعت کے طالب علم راجیش بیٹھیکر کی موت ہوگئی۔ اس معاملے میں آج شکایت بھی درج کرائی گئی ہے۔
14 اگست کو بیمار طلبہ کی تعداد بڑھنے کے بعد اسکول انتظامیہ نے انہیں اسپتال منتقل کرنے کے بجائے ان کے گھروں تک پہنچانے کا انتظام کیا۔ 11ویں جماعت کے طالب علم راجیش بیٹھیکر کو بھی چکھلدارہ تعلقہ کے کرنج کھیڑا گاؤں میں واقع اس کے گھر بھیج دیا گیا۔ گھر پہنچنے کے بعد راجیش کی طبیعت مزید بگڑ گئی اور 16 اگست کی صبح اس کی موت ہوگئی۔ اس کا چچازاد بھائی رام پرساد بھی شدید بیمار ہے اور اسے علاج کے لیے چورنی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
طلبہ کے بیمار ہونے کے باوجود انہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے بجائے میلاگھاٹ کے دور دراز علاقوں میں واقع ان کے گھروں کو بھیجے جانے پر اسکول انتظامیہ کے خلاف ناراضی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ طلبہ کو بروقت اسپتال منتقل نہ کرنے اور ذمہ داری سے بچنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مہارشی پبلک اسکول انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ طلبہ کی صحت کے معاملے میں اسکول انتظامیہ کو زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طبی امداد فراہم کرنی چاہیے تھی۔اعلیٰ عدالت کے حکم کے مطابق ڈویژنل کمشنر اور ضلع کلکٹر سے قبائلی رہائشی اسکولوں کا باقاعدگی سے معائنہ کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ مختلف سماجی تنظیموں نے بھی واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے