کے پی ایس سی بھرتی معاملے میں ای ڈی نے کرناٹک اور گجرات میں 21 مقامات پر چھاپے مارے
نئی دہلی، 18 اگست (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے کرناٹک پبلک سروس کمیشن (کے پی ایس سی) کے ذریعہ منعقدہ ویٹرنری افسران کی بھرتی میں مبینہ بے ضابطگیوں اور منی لانڈرنگ کے سلسلے میں 21 مقامات پر چھاپے ماری کی ۔کارروائی میں کے پی ایس سی کے دفات
ED-KPSC-VETERINARY-OFFICERS-RECRUITMENT-SEARCH


نئی دہلی، 18 اگست (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے کرناٹک پبلک سروس کمیشن (کے پی ایس سی) کے ذریعہ منعقدہ ویٹرنری افسران کی بھرتی میں مبینہ بے ضابطگیوں اور منی لانڈرنگ کے سلسلے میں 21 مقامات پر چھاپے ماری کی ۔کارروائی میں کے پی ایس سی کے دفاتر، معطل چیئرمین شیو شنکرپا ایس ساہوکار کی رہائش گاہ، کے پی ایس سی کی رکن شانتا ہوسمانی، مبینہ بچولیوں، امتحان کی ڈیجیٹل تشخیص کے عمل سے وابستہ کمپنی اور منتخب امیدواروں کے احاطوں کو شامل کیا گیا ہے۔

ای ڈی کے بنگلورو زونل آفس کی طرف سے کی گئی یہ کارروائی کرناٹک کے مختلف مقامات بشمول بنگلورو، ہاسن، چتردرگا، داونگیرے، رائچور، کاروار، کلبرگی اور بیلگاوی سمیت مختلف مقامات اور گجرات کے احمد آباد میں کی گئی ۔ تلاشی کے دائرے میں ویٹرنری افسران کی بھرتی کے امتحان کے لیے حتمی انتخاب کے عمل میں شامل امیدواروں کے احاطے بھی شامل تھے۔

بنگلورو کے ودھان سودھا پولیس اسٹیشن میں اس معاملے میں چار ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ شکایات میں ویٹرنری آفیسر کی بھرتی کے امتحان کے حتمی انتخاب کے عمل میں سنگین بے ضابطگیوں کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ الزام ہے کہ کچھ بچولیوں نے امیدواروں سے رابطہ کیا اور ان کے انتخاب کو یقینی بنانے کے عوض فی امیدوار 70 سے 80 لاکھ روپے تک رشوت طلب کی۔

شکایت کنندہ نے ان بچولیوں کے ساتھ بات چیت کی آڈیو ریکارڈنگ بھی تفتیشی ایجنسی کو پیش کی ہے۔ اس کیس میں سوالیہ پرچہ لیک ہونے، او ایم آر کے جوابی پرچوں میں مبینہ چھیڑ چھاڑاور حتمی انتخاب کے عمل میں کے پی ایس سی حکام کے رشتہ داروں کی طرف سے مبینہ طور پر جانبداری کا الزام بھیعائد کیا گیا ہے۔

ای ڈی کے مطابق، تلاشی مہم کا مقصد مبینہ منی ٹریل اور کیس میں ملوث افراد اور اداروں کے بارے میں مزید معلومات جمع کرنا ہے۔ مہم کے دوران برآمد ہونے والے دستاویزات اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

کے پی ایس سی کے اس کیس کے علاوہ، ای ڈی نے کیرالہ کے کوزی کوڈ میں تقریباً آٹھ احاطوں کی تلاشی بھی شامل کی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ یہ تلاشیاں سی ایم آر ایل گروپ کے معاملے میں مئی میں کی گئی کارروائی کا فالو اپ ہیں۔

ای ڈی کے مطابق، 27 مئی کو سی ایم آر ایل گروپ کی تلاشی کے دوران سابق وزیر اعلیٰ کی بیٹی وینا سے متعلق نئے ثبوت سامنے آئے۔ تحقیقاتی ایجنسی کو مبینہ مالی لین دین کے حوالے سے معلومات ملی تھیں۔ اب ان افراد سے وابستہ افراد اور احاطے کی تلاش کی جارہی ہے۔

ای ڈی کی دونوں کارروائیوں میں اب تک سامنے آنے والے دستاویزات اور ڈیجیٹل اور دیگر شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے۔ تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر کیس میں مزید کارروائی کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande