
میکے سے 5 لاکھ روپے لانے کا دباؤ، شادی شدہ خاتون کی خودکشی، شوہر سمیت 4 افراد پر مقدمہبیڑ، 18 اگست (ہ س)۔ شوہرکوملازمت دلانے کے لیے میکے سے پانچ لاکھ روپے لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سسرال والوں کی جانب سے مبینہ طورپرمسلسل جسمانی اور ذہنی اذیت دیے جانے سے تنگ آکرایک شادی شدہ خاتون نے خودکشی کرلی۔ یہ واقعہ مہاراشٹر کے گھاٹ نندور میں پیش آیا۔ متوفی خاتون کے بھائی کی شکایت پر شوہر سمیت سسرال کے 4 افراد کے خلاف امباجوگائی دیہی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔لاتور ضلع کے چاکور کے تاجر روہت اشوک پھلاری نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ شکایت کے مطابق روہت کی چھوٹی بہن دیکشا کی شادی جون 2020 میں گھاٹناندور کے اجیت باپوراؤ پھلاری سے ہوئی تھی۔ شادی کے وقت دیکشا کو 12 لاکھ روپے اور 11 تولہ سونا بطور اسٹری دھن دیا گیا تھا۔ شادی سے قبل بتایا گیا تھا کہ اجیت کو جلد اسٹینو کی ملازمت ملنے والی ہے، اسی بنیاد پر دیکشا کی شادی اجیت سے کی گئی تھی۔
تاہم اجیت کو ملازمت نہیں ملی۔ شادی کے تقریباً ایک سال بعد سسرال والوں نے دیکشا پر شوہر کو ملازمت دلانے کے لیے میکے سے پانچ لاکھ روپے لانے کا دباؤ ڈالنا شروع کردیا۔ شکایت کے مطابق اس مطالبے پر دیکشا کو مسلسل طعنے دیے جاتے، گالیاں دی جاتیں، کھانا نہیں دیا جاتا اور مبینہ طور پر مارپیٹ بھی کی جاتی تھی۔ اس کے کردار پر شک کرکے بھی اسے ذہنی اذیت دی جاتی تھی۔شکایت کے مطابق مسلسل مبینہ ظلم و ستم سے تنگ آکر دیکشا نے اپنے گھر میں خودکشی کرلی۔ واقعے کے بعد اہل خانہ میں غم کی لہر دوڑ گئی۔پولیس نے شوہر اجیت باپوراؤ پھلاری، ساس ستیہ بھاما عرف چنچلا باپوراؤ پھلاری، سسر باپوراؤ لکشمن پھلاری اور نند شبھانگی عرف سونی نام دیو پھلاری کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ چاروں کا تعلق گھاٹناندور، تعلقہ امباجوگائی سے بتایا گیا ہے۔معاملے کی مزید تفتیش پولیس انسپکٹر سنتوش جادھوَر کر رہے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے