
نئی دہلی، 18 اگست (ہ س)۔ دفاعی وزارت نے منگل کے روز چھٹی مثبت ملکی فہرست جاری کرتے ہوئے 405 اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فہرست میں حکمتِ عملی کے لحاظ سے اہم لائن ریپلیس ایبل یونٹس، ذیلی نظام، ذیلی اسمبلیاں، اسپیئر پارٹس، پرزے اور خام مال شامل ہیں۔ اب ان تمام اشیا کی خریداری مختلف مقررہ مدت کے اندر صرف مقامی ذرائع سے کی جائے گی۔ ان میں بھارتی کوسٹ گارڈ(آئی سی جی) کی 16 اشیا اور سرکاری شعبے کے دفاعی اداروں(ڈی پی ایس یو) کی 389 اشیا شامل ہیں۔
دفاعی وزارت کے مطابق درآمد کے لیے ممنوع قرار دی گئی یہ اشیا دفاعی پلیٹ فارموں اور نظاموں کی ایک وسیع رینج پر محیط ہیں۔ ان میں فضائیہ کے لیے ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹر، لائٹ یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹر، ایس یو-30 ایم کے آئی، لائٹ کامبیٹ ایئرکرافٹ اور اے ایل31- ایف پی انجن جیسے فضائی پلیٹ فارم شامل ہیں۔ اسی طرح فوج کے ٹی-72، ٹی-90 اور بی ایم پی2- سمیت بکتر بند پلیٹ فارم بھی اس فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔ بحریہ کے جنگی جہازوں میں استعمال ہونے والے کونکرس-ایم، انوار اور ایم آر ایس اے ایم جیسے میزائل نظام، ریڈار، سونار، فائر کنٹرول سسٹم اور سیٹلائٹ مواصلاتی نظام سمیت دفاعی الیکٹرانکس، ہائی ایکسپلوسیو ٹینک شکن گولہ بارود اور دیگر اہم دفاعی سازوسامان اب درآمد نہیں کیا جا سکے گا۔
وزارت کے مطابق ان اشیا کی تفصیلی فہرست سریجن پورٹل (srijandefence.gov.in) پر بھی دستیاب ہے۔ ہر شے کی مقامی کاری کے لیے ایک متوقع مدت مقرر کی گئی ہے۔ مقامی کاری کامیاب ہونے کے بعد ان اشیا کی خریداری بھارتی دفاعی صنعت سے کی جائے گی۔ ڈی پی ایس یو اور آئی سی جی صنعت، بالخصوص ایم ایس ایم ایز کی شمولیت کے ساتھ اپنی مینوفیکچرنگ، اندرونی ترقی اور دیگر ذرائع سے مقامی کاری کا عمل مکمل کریں گے۔ توقع ہے کہ چھٹی مثبت مقامی کاری فہرست سے ملکی دفاعی مینوفیکچرنگ نظام کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری اور اختراع کو فروغ دینے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔
محکمہ دفاعی پیداوار (ڈی ڈی پی) نے اگست 2020 میں سریجن دفاعی پورٹل شروع کیا تھا۔ اس کے ذریعے سرکاری شعبے کے دفاعی ادارے اور سروس ہیڈکوارٹرز(ایس اے ایچ کیو) مقامی ترقی اور پیداوار کے لیے چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعتوں اور اسٹارٹ اپس سمیت صنعتوں کو دفاعی سازوسامان کی ضروریات فراہم کرتے ہیں۔ آغاز کے بعد سے جون 2026 تک اس پورٹل نے دفاعی اداروں اور سروس ہیڈکوارٹرز کی مقامی کاری کے لیے 33 ہزار سے زیادہ دفاعی اشیا کی فراہمی میں سہولت فراہم کی ہے۔ ان میں پہلی پانچ مثبت مقامی کاری فہرستوں کے تحت نوٹیفائی کی گئی 5,012 اشیا بھی شامل ہیں۔
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 15,700 سے زیادہ دفاعی اشیا کی مقامی کاری کی جا چکی ہے، جس سے تقریباً 9,000 کروڑ روپے کی درآمدی متبادل کاری کا اندازہ ہے۔ اس کے علاوہ دفاعی اداروں(ڈی پی ایس یو) نے مارچ تک ملکی سپلائرز کو تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے کے خریداری آرڈر بھی دیے ہیں، جن میں مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات بھی شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan