اسسٹنٹ پروفیسروں کی تقرری کے قواعد پر چراغ پاسوان کا وزیر اعلیٰ کو خط، چھ نکات پر نظرثانی کا مطالبہ
پٹنہ، 18 اگست (ہ س)۔ بہار میں اسسٹنٹ پروفیسروں کی تقرری کے مجوزہ قواعد پر مرکزی وزیر اور لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے صدر چراغ پاسوان نے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو خط لکھ کر چھ اہم نکات پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔چراغ پاسوان نے اپنے خط میں کہ
اسسٹنٹ پروفیسر تقرری قوانین پرچراغ پاسوان نے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو لکھا خط،  چھ نکات پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا


پٹنہ، 18 اگست (ہ س)۔

بہار میں اسسٹنٹ پروفیسروں کی تقرری کے مجوزہ قواعد پر مرکزی وزیر اور لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے صدر چراغ پاسوان نے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو خط لکھ کر چھ اہم نکات پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔چراغ پاسوان نے اپنے خط میں کہا ہے کہ اسسٹنٹ پروفیسر تقرری رولز-2026 کا براہِ راست اثر بہار کی یونیورسٹیوں، کالجوں، امیدواروں، گیسٹ فیکلٹی اور طلبہ کے مستقبل پر پڑے گا۔ اس لیے تقرری کے عمل میں اہل امیدواروں، طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے گیسٹ فیکلٹی اور ریاست کے طلبہ کے مفادات کے درمیان متوازن اور منصفانہ طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

مرکزی وزیر نے مجوزہ قواعد کے چھ اہم نکات پر دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے اسسٹنٹ پروفیسروں کی بھرتی میں یو جی سی ریگولیشنز 2018 کے ٹیبل 3 اے کو نافذ کرنے، امیدواروں کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 55 سال مقرر کرنے اور بہار کی یونیورسٹیوں میں اسسٹنٹ پروفیسروں کی تقرری کے عمل کو مستقل اور باقاعدہ بنانے کی تجویز دی ہے۔چراغ پاسوان نے تقرری کے عمل میں ڈومیسائل پالیسی نافذ کرنے اور بہار کی یونیورسٹیوں و کالجوں کی خودمختاری برقرار رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔

انہوں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ برسوں سے یونیورسٹیوں میں خدمات انجام دے رہے گیسٹ اسسٹنٹ پروفیسروں کے سروس ایڈجسٹمنٹ کے لیے مثبت قدم اٹھایا جائے یا انہیں مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے تدریسی خدمات انجام دینے والے تجربہ کار اساتذہ کے مستقبل کو محفوظ بنانا ضروری ہے۔ ان کی خدمات بہار میں نئے قائم ہونے والے کالجوں میں بھی مؤثر طریقے سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

چراغ پاسوان نے کہا کہ اسسٹنٹ پروفیسر تقرری رولز-2026 کو حتمی شکل دینے سے پہلے تمام متعلقہ فریقوں، جن میں طلبہ، امیدوار، گیسٹ فیکلٹی، یونیورسٹیاں اور متعلقہ مضامین کے ماہرین شامل ہیں، سے وسیع مشاورت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ مجوزہ قواعد کو یو جی سی کے متعلقہ معیارات کے مطابق نظرثانی کیا جائے، تاکہ ان کے نفاذ سے ریاست کی تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں پر منفی اثر نہ پڑے۔ چراغ پاسوان نے امید ظاہر کی کہ بہار حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے گی اور ایسا فیصلہ کرے گی جس سے طلبہ کا مستقبل محفوظ ہو، اہل امیدواروں کو انصاف ملے اور ریاست کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ اس کے معیار میں بھی بہتری آئے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande