چھتیس گڑھ میں بھارت نیٹ کی توسیع کے لیے 3,942 کروڑ روپے کی منظوری، 11,682 گرام پنچایتوں کو فائدہ ملے گا
چھتیس گڑھ میں بھارت نیٹ کی توسیع کے لیے 3,942 کروڑ روپے کی منظوری، 11,682 گرام پنچایتوں کو فائدہ ملے گا نئی دہلی، 18 اگست (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے دیہی علاقوں میں براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی کو مستحکم کرنے کے لیے چھتیس گڑھ میں ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام
نئی دہلی میں ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام کے تحت چھتیس گڑھ میں پروجیکٹ کے نفاذ کے لیے معاہدے پر دستخط کرتے مرکز اور چھتیس گڑھ حکومت کے حکام۔


چھتیس گڑھ میں بھارت نیٹ کی توسیع کے لیے 3,942 کروڑ روپے کی منظوری، 11,682 گرام پنچایتوں کو فائدہ ملے گا

نئی دہلی، 18 اگست (ہ س)۔

مرکزی حکومت نے دیہی علاقوں میں براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی کو مستحکم کرنے کے لیے چھتیس گڑھ میں ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام کے تحت 3,942 کروڑ روپے کی مالی امداد منظور کی ہے۔ اس کے تحت ریاست کی 11,682 گرام پنچایتوں کو بھارت نیٹ نیٹ ورک سے جوڑا اور اپ گریڈ کیا جائے گا۔ ساتھ ہی 8,328 گاوں کو طلب کی بنیاد پر انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی فراہم کی جائے گی۔

مرکزی وزارتِ مواصلات نے بتایا کہ ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام کے تحت اس کے نفاذ کے لیے ڈیجیٹل بھارت ندھی، محکمہ ٹیلی مواصلات، چھتیس گڑھ حکومت، چھتیس گڑھ اسٹیٹ بھارت نیٹ انفراسٹرکچر لمیٹڈ، بھارت سنچار نگم لمیٹڈ اور چھتیس گڑھ انفوٹیک پروموشن سوسائٹی کے درمیان منگل کے روز یہاں سنچار بھون میں معاہدہ طے پایا۔

اس پروگرام کے تحت چھتیس گڑھ کی کل 11,682 گرام پنچایتوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں پہلے مرحلے کی 4,048 گرام پنچایتوں کو لینیئر (خطی) نیٹ ورک سے رنگ نیٹ ورک میں تبدیل (اپ گریڈ) کیا جائے گا۔ اس سے نیٹ ورک کی مضبوطی اور قابلِ اعتماد کنیکٹیویٹی میں اضافہ ہوگا۔ دوسرے مرحلے کی 5,964 گرام پنچایتوں کو بھی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ 1,670 نو تشکیل شدہ گرام پنچایتوں کو بھارت نیٹ نیٹ ورک سے جوڑا جائے گا۔

اس کے علاوہ 8,328 گاوں کو طلب کی بنیاد پر کنیکٹیویٹی فراہم کی جائے گی۔ حکومت کے مطابق اس سے دیہی اور دور دراز علاقوں میں آخری سرے تک انٹرنیٹ پہنچانے میں مدد ملے گی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے منظور شدہ 3,942 کروڑ روپے کی مالی امداد سے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ پروگرام کے تحت تین لاکھ سے زائد دیہی گھرانوں میں فائبر پر مبنی انٹرنیٹ کنکشن فراہم کرنے میں بھی مدد ملنے کی امید ہے۔ وزارت نے بتایا کہ بھارت نیٹ کی توسیع سے دیہی علاقوں میں ای گورننس، آن لائن تعلیم، ٹیلی میڈیسن، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور شہریوں پر مبنی خدمات کی رسائی بہتر ہوگی۔ اس سے دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور ڈیجیٹل خدمات کی توسیع کو رفتار ملنے کی توقع ہے۔

معاہدے پر دستخط کے موقع پر ڈیجیٹل بھارت ندھی کے منتظم شیامل مشرا، چھتیس گڑھ کے محکمہ برقیات و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے سکریٹری انکت آنند، چھتیس گڑھ اسٹیٹ بھارت نیٹ انفراسٹرکچر لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر مینک اگروال، بھارت سنچار نگم لمیٹڈ کے ڈائریکٹر (انٹرپرائز بزنس) پاپا سدھاکر راو اور محکمہ ٹیلی مواصلات کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل دنیش کمار گرگ سمیت مرکز اور ریاستی حکومت کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔

مرکزی کابینہ نے 4 اگست 2023 کو ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام کو منظوری دی تھی۔ اس کا مقصد موجودہ بھارت نیٹ نیٹ ورک کو اپ گریڈ اور وسیع کر کے تمام گرام پنچایتوں اور طلب کی بنیاد پر گاوں تک مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی پہنچانا ہے۔

ڈیجیٹل بھارت ندھی کے تحت دیہی، دور دراز اور خدمات سے محروم علاقوں میں مواصلاتی خدمات کی رسائی بڑھانے کے لیے مختلف اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں۔ بھارت نیٹ کے علاوہ اس میں 4جی کوریج کو وسعت دینے، خواہش مند اضلاع کے محروم علاقوں میں موبائل خدمات فراہم کرنے نیز بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ، ہمالیائی و سرحدی علاقوں، جزائر اور شمال مشرقی خطوں میں موبائل خدمات سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande