
سی بی آئی نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مائنز سیفٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر سمیت تین افراد کو دو لاکھ رشوت لیتے رنگے ہاتھوں پکڑا
نئی دہلی، 18 اگست (ہ س)۔ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مائنز سیفٹی (ڈی جی ایم ایس)، حیدرآباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر (مائننگ) یو شیو شنکر سمیت تین افراد کو پیر کے روز دو لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ رشوت کی یہ رقم آندھرا پردیش کے پرکاشم ضلع میں پیش آنے والے کان حادثے کی تفتیش میں من پسند (موافق) رپورٹ دینے کے عوض دی جانی تھی۔
سی بی آئی کے مطابق، 25 جون کو پرکاشم ضلع کی ایک کان میں حادثہ پیش آیا تھا۔ الزام ہے کہ متعلقہ مائننگ کمپنی کے نمائندوں نے حادثے کی جانچ میں موافق رپورٹ حاصل کرنے اور کمپنی کے مالکان کو کیس میں نہ پھنسانے کے لیے ایک مشیر اور دلال کے ذریعے ڈی جی ایم ایس کے ڈپٹی ڈائریکٹر (مائننگ) سے رابطہ کیا تھا۔
جانچ ایجنسی کے مطابق دلال نے پہلے بھی موافق رپورٹ کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر کو ایک لاکھ روپے دیے تھے۔ اس کے بعد 17 اگست کو دو لاکھ روپے کی ایک اور رقم کا بندوبست کیا گیا تھا۔ یہ رقم سازگار تفتیشی رپورٹ کے علاوہ متعلقہ مائننگ کمپنی اور دیگر کانوں سے وابستہ مبینہ سہ ماہی رشوت کی ادائیگی کے طور پر دی جانی تھی۔
سی بی آئی نے 17 اگست کو جال بچھایا اور اونگول میں ڈی جی ایم ایس کے ڈپٹی ڈائریکٹر (مائننگ) یو شیو شنکر کو دو لاکھ روپے کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ یہ رقم مشیر اور دلال اے شبھاشکر ریڈی نے مائننگ کمپنی کے نمائندے کی موجودگی میں دی تھی۔ سی بی آئی نے رشوت کی پوری رقم برآمد کر لی۔
سی بی آئی نے اس معاملے میں ڈی جی ایم ایس کے ڈپٹی ڈائریکٹر یو شیو شنکر، پرکاشم ضلع کے چیماکرتی میں واقع میسرز واسوی گرینائٹس کے نمائندے سدا وینکٹ سریش کمار، اور مشیر و دلال اے شبھاشکر ریڈی کو گرفتار کیا ہے۔
جانچ ایجنسی نے ملزمان کے اونگول، کڈپا اور حیدرآباد میں واقع ٹھکانوں کی تلاشی بھی شروع کر دی ہے۔ سی بی آئی نے بتایا کہ تینوں گرفتار ملزمان کو منگل کے روز وجئے واڑہ کی مجاز عدالت میں پیش کیا گیا۔ معاملے کی تفتیش جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن