
ڈھاکہ، 18 اگست (ہ س)۔ بنگلہ دیش پبلک سروس کمیشن (بی پی ایس سی) کے امتحان پیپر لیک کے پرانے معاملے میں جوابدہ افسر کو جیل بھیج دیا گیا۔ بی پی ایس سی کے پروگرامر کوشک دیب ناتھ نے پیر کے روز ڈھاکہ کی ایک عدالت میں خودسپردگی کر دی۔ عدالت نے اس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا۔
ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، کوشک نے ڈھاکہ میٹروپولیٹن سیشن جج محمد شاہ جہاں کبیر کے سامنے خودسپردگی کرتے ہوئے ضمانت کی درخواست کی۔ وکیل ایڈوکیٹ محمد شریف الاسلام نے دلیل دی کہ ان کے موکل پر ایف آئی آر اور چارج شیٹ میں عائد کیے گئے الزامات سراسر جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ضمانت کی درخواست مسترد کر دی اور کوشک کو جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
کوشک نے 7 جولائی کو ہائی کورٹ سے چھ ہفتوں کی ضمانت حاصل کی تھی اور انہیں ٹرائل کورٹ کے سامنے خودسپردگی کی ہدایت دی گئی تھی۔ انہوں نے پیر کو خودسپردگی کی۔ سی آئی ڈی کے سب انسپکٹر نپان چندر چندا نے 8 جولائی 2024 کو پلٹن ماڈل پولیس اسٹیشن میں بنگلہ دیش پبلک سروس کمیشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا۔ اس معاملے میں 31 افراد کے نام شامل تھے اور 60-50 نامعلوم افراد پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔
تفتیش کے بعد سی آئی ڈی کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ سمن کمار ساہا نے 18 مئی کو 55 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔ اس میں مبینہ طور پر سوالیہ پرچہ افشا کرنے والے سنڈیکیٹ کے سرغنہ عابد علی کا نام بھی شامل تھا۔
چارج شیٹ کے مطابق، سنڈیکیٹ نے امتحان سے قبل چنندہ امیدواروں کو امتحان سوالات اور جوابات فراہم کیے۔ الزام ہے کہ سنڈیکیٹ نے امیدواروں سے پہلے ہی خطیر رقم وصول کر لی تھی۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ نیٹ ورک متعدد اضلاع میں سرگرم عمل تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن