
کولکاتا، 17 اگست (ہ س)۔
مغربی بنگال کے بیربھوم ضلع کے مشہور مذہبی مقام تاراپیٹھ کے قریب ایک ہوٹل میں پیر کی علی الصبح پیش آنے والی بھیانک آتشزدگی میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 8 ہوگئی ہے۔ وزیراعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکومت متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا بھی اعلان کرے گی۔
سرکاری طور پر جاری کی گئی فہرست کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں میگھالیہ کے ساؤتھ گارو ہلز کے پانچ افراد جبکہ مغربی بنگال کے علی پور دوار ضلع کے تین افراد شامل ہیں۔ متوفین کی شناخت راجندر ناتھ، آشا ناتھ، برن موڈک، 10 سالہ شیو راج موڈک، 8 سالہ اوشناتھ موڈک، کمل رائے، امیت پال اور سوبیر ساہا کے طور پر ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے وقت ہوٹل میں بڑی تعداد میں عقیدت مند ٹھہرے ہوئے تھے، جو ماں تارا کے درشن اور پوجا کے لیے تاراپیٹھ پہنچے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو محفوظ باہر نکالا، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود آٹھ افراد کی جان نہیں بچائی جا سکی۔ وزیراعلیٰ نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پولیس سپرنٹنڈنٹ، ضلع مجسٹریٹ، مقامی رکن اسمبلی دھروبا ساہا اور فائر بریگیڈ کے ریاستی وزیر کوشک چودھری موقع پر موجود ہیں اور امدادی و بچاؤ کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
شبھیندو ادھیکاری نے کہا کہ حکومت نے حادثے کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے ضروری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذمہ دار افراد کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا اور قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔ متاثرین کے لیے مناسب معاوضے کا اعلان بھی مناسب وقت پر کیا جائے گا۔
حادثے میں 34 افراد کو محفوظ باہر نکال لیا گیا، جبکہ ایک جھلسے ہوئے شخص کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کی جانب سے آگ لگنے کی اصل وجہ، ہوٹل میں حفاظتی انتظامات اور ممکنہ غفلت سمیت تمام پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan