
نئی دہلی، 17 اگست (ہ س)۔
سپریم کورٹ نے سکم میں ووٹر لسٹ کے خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے لیے 2002 کو بنیادی سال ماننے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی خارج کر دی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ خصوصی گہری نظرثانی کے لیے 2002 کو بنیادی سال مقرر کیا گیا ہے اور عمل شروع ہونے کے درمیان میں اس کی بنیاد تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
یہ عرضی ”سکمیز مول نِواسی سرکشا سنگھ“ نامی این جی او نے دائر کی تھی۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ سکم میں جاری خصوصی گہری نظرثانی کے لیے 2002 کے بجائے 1993 کو بنیادی سال مانا جائے۔ سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے کہا گیا کہ 2002 میں ووٹر لسٹ میں شامل کیے گئے نام سکم کے آبادیاتی اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایسے میں 2002 کو بنیادی سال ماننے سے ریاست کی ووٹر لسٹ میں مزید بے ضابطگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
سپریم کورٹ نے عرضی گزار کی اس دلیل کو قبول نہیں کیا اور کہا کہ 2002 کی ووٹر لسٹ میں شامل ووٹروں نے اس کے بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ