
نئی دہلی، 17 اگست (ہ س)۔
سپریم کورٹ نے تہواروں اور تعطیلات کے دوران ہوائی کرایوں میں بھاری اضافے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایئرلائنز کمپنیاں قوانین پر عمل نہیں کر رہی ہیں تو ان کی پروازیں روکنے جیسے اقدامات پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ مسافروں کے مفاد میں نظام تو بنایا گیا ہے، لیکن اس پر عمل درآمد اور ضابطہ بندی کے حوالے سے صورتِ حال ابھی واضح نہیں ہے۔
سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے کہا کہ ہوائی کرایوں سے متعلق نئے قوانین بنانے کا عمل آخری مرحلے میں ہے۔ مرکز نے قوانین کا مسودہ سیل بند لفافے میں عدالت کے حوالے کیا۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ تین ہفتوں میں نئے قوانین کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔
سماعت کے دوران عرضی گزار ایس لکشمی نارائنن نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ شہری ہوابازی کے وزیر نے پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ حکومت ہوائی کرایوں پر کوئی حد مقرر نہیں کر سکتی۔ عرضی گزار نے الزام عائد کیا کہ ایئرلائنز جس طرح مسافروں سے کرایہ وصول کر رہی ہیں، اس حوالے سے بنائے گئے سرکاری قوانین پر مو¿ثر طریقے سے عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ