ریلوے اسٹیشنوں کے پانی میں ای۔کولائی، مہاراشٹر کے 4 اسٹیشن بھی شامل
ریلوے اسٹیشنوں کے پانی میں ای۔کولائی، مہاراشٹر کے 4 اسٹیشن بھی شامل ممبئی ، 17 اگست (ہ س)۔ ملک بھر کے ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کو دستیاب بنیادی سہولیات اور پینے کے پانی کے معیار سے متعلق سنگین خامیاں کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا یعنی کیگ ک
ریلوے اسٹیشنوں کے پانی میں ای۔کولائی، مہاراشٹر کے 4 اسٹیشن بھی شامل


ریلوے اسٹیشنوں کے پانی میں ای۔کولائی، مہاراشٹر کے 4 اسٹیشن بھی شامل

ممبئی ، 17 اگست (ہ س)۔ ملک بھر کے ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کو دستیاب بنیادی سہولیات اور پینے کے پانی کے معیار سے متعلق سنگین خامیاں کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا یعنی کیگ کی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔ واٹر کولروں کے پانی کے نمونوں کی جانچ کے دوران ملک کے مختلف ریلوے اسٹیشنوں پر ای کولائی اور ٹوٹل کولی فارم بیکٹیریا کی موجودگی پائی گئی۔ ان اسٹیشنوں میں مہاراشٹر کے چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس، بھیونڈی روڈ، کلیان اور لو ناولہ شامل ہیں۔ جنوبی ریلوے کے کوئمبٹور اور پالکڑ جنکشن اور جنوبی وسطی ریلوے کے حیدرآباد اسٹیشن کے پانی کے نمونوں میں بھی ای کولائی پائی گئی۔

کیگ کی جانچ کے مطابق ملک کے 8 ریلوے اسٹیشنوں کے پانی کے نمونوں میں ای کولائی کے ساتھ کولی فارم بیکٹیریا بھی پائے گئے۔ رپورٹ میں اسٹیشنوں کے بیت الخلا اور دیگر بنیادی سہولیات کی حالت بھی اطمینان بخش نہیں پائی گئی۔ چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس، ہاوڑہ، سیالدہ، نئی دہلی اور ممبئی سینٹرل جیسے بڑے اسٹیشنوں پر بھی نشستوں، صفائی، کچرے کے ڈبوں اور الیکٹرانک ریلوے انفارمیشن بورڈ سمیت مختلف سہولیات میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔

ریلوے کے ضابطوں کے مطابق اسٹیشنوں پر پانی کی فراہمی کے نظام کی سال میں کم از کم 2 مرتبہ جانچ ضروری ہے۔ تاہم کیگ کی جانچ میں 15 ریلوے زون کے 436 اسٹیشنوں پر پانی کی جانچ کے لیے ضروری ٹیسٹ کٹس دستیاب نہیں تھیں، جن میں وسطی ریلوے کے 28 اسٹیشن بھی شامل ہیں۔ اس صورتحال نے مسافروں کو فراہم کیے جانے والے پینے کے پانی کے معیار پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

کیگ نے 512 ریلوے اسٹیشنوں کی جانچ کی، جن میں سے 458 پر مسافروں کے لیے ایک یا اس سے زیادہ بنیادی سہولیات کی کمی پائی گئی۔ پنکھے، واٹر کولر، پینے کے پانی کے نل، بیت الخلا، یورینل، نشستیں، پلیٹ فارم شیڈ اور ویٹنگ روم جیسی سہولیات میں خامیاں سامنے آئیں۔ جانچ کیے گئے اسٹیشنوں میں پنکھوں کی 42 فیصد، واٹر کولروں کی 40 فیصد اور پینے کے پانی کے نلوں کی 27 فیصد کمی پائی گئی، جبکہ 21 اسٹیشنوں پر ضروری ویٹنگ روم بھی دستیاب نہیں تھا۔

پانی میں موجود ای کولائی کی بعض اقسام اسہال، پیٹ میں درد، الٹی، متلی اور مروڑ کا سبب بن سکتی ہیں۔ شدید انفیکشن کی صورت میں خون آلود اسہال، بخار اور جسم میں پانی کی کمی ہوسکتی ہے، جبکہ بعض معاملات میں گردوں پر بھی اثر پڑنے کا خطرہ رہتا ہے۔جنرل فزیشن ڈاکٹر سجاتا پاٹھک کے مطابق ای کولائی سے آلودہ پانی پینے سے صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور بعض صورتوں میں بیکٹیریا خون کے ذریعے جسم کے مختلف حصوں تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے آلودہ پانی کو صحت کے لیے خطرناک قرار دیا۔

کیگ نے مسافروں کی سہولیات سے متعلق ترقیاتی کاموں میں بھی بڑے پیمانے پر تاخیر کی نشاندہی کی ہے۔ 2019 سے 2020 اور 2023 سے 2024 کے درمیان جانچ کیے گئے 395 کاموں میں سے 59 فیصد کام تاخیر کا شکار رہے۔ اسی طرح مسافروں کی سہولیات کے لیے منظور شدہ فنڈز میں سے 36 سے 44 فیصد رقم خرچ نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں معذور مسافروں کے لیے ریمپ، پارکنگ، ٹیکٹائل پاتھ وے، وہیل چیئر اور دیگر سہولیات کی کمی بھی سامنے آئی ہے۔

ریلوے کے تقریباً 20 ہزار مقامات پر ٹینک سے نل تک پانی صاف کرنے اور پانی کے معیار کی نگرانی کا نظام نصب کرنے کی تجویز ہے۔ ان مقامات پر واٹر کولر بھی شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ پرانی پانی کی ٹنکیوں کو تبدیل کرنے، مقررہ شیڈول کے مطابق ٹنکیوں کی صفائی اور دیکھ بھال لازمی بنانے اور ان اقدامات سے متعلق رپورٹ وقتاً فوقتاً جاری کرکے شفافیت برقرار رکھنے کی بھی بات کہی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande