
ممبئی ، 17 اگست (ہ س) ۔ پانی اور مٹی صرف قدرتی وسائل نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کی بنیاد ہیں۔ زیر زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی اور بڑھتی پانی کی قلت کے پیش نظر ہر شہری کو پانی کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات میں حصہ لینا ہوگا۔ تھانے ضلع اطلاعات و نشریات افسر منوج سومن شیواجی سانپ نے شہریوں، بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پانی کے تحفظ کی مہم میں شامل ہوں اور ریاست گیر پیدل مارچ کے ذریعے پانی کی ہر بوند بچانے کا پیغام عام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت ریاست میں 15 سے 21 اگست تک 'جل سنوردھن' ہفتہ اور 15 سے 26 جنوری تک بڑے پیمانے پر 'جل سنوردھن ' مہم چلائی جا رہی ہے۔ عام شہریوں کو آگے آکر اپنے گاؤں، شہر اور پورے مہاراشٹر کو خشک سالی سے پاک بنانے کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔21 اگست کو مہا واک تھون کا انعقاد: 21 اگست کو پانی بچانے کے دن کے موقع پر ریاست کے تمام 36 اضلاع میں مہا واک تھون پانی کے لیے ایک قدم منعقد کیا جائے گا۔ 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے شہریوں کے لیے 3 کلومیٹر کی یہ پیدل مارچ سرگرمی صرف ایک واک نہیں بلکہ پانی کے تحفظ کے لیے اجتماعی عزم کا اظہار بھی ہے۔ پیدل مارچ میں شرکت کرنے والے شہریوں کو ٹی شرٹ، کیپ، می جل دوت بیج اور ڈیجیٹل ای سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔ منوج سانپ نے شہریوں سے بڑی تعداد میں اس واک تھون میں شرکت کرنے کی اپیل کی ہے۔نوجوانوں کے لیے ریلز مقابلہ : نوجوانوں کو ماحول اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا کا مؤثر استعمال کرنے کا موقع فراہم کرتے ہوئے ریاست بھر میں مٹی اور پانی کے تحفظ کے موضوع پر ریلز مقابلہ بھی منعقد کیا گیا ہے۔ اس میں 15 سے 30 سال کی عمر کے نوجوان حصہ لے سکتے ہیں۔ شرکا کو مٹی اور پانی کے تحفظ، بارش کے پانی کے ذخیرے، شجرکاری یا اپنے گاؤں میں پانی کے تحفظ کے کامیاب اقدامات جیسے موضوعات پر 30 سے 60 سیکنڈ کی مؤثر انسٹاگرام ریل تیار کرکے مقررہ ہیش ٹیگ کے ساتھ پوسٹ کرنی ہوگی۔ضلع سطح پر نقد انعامات : ریلز مقابلے میں ضلع سطح پر پہلے مقام پر آنے والے کو 25 ہزار روپے، دوسرے کو 15 ہزار روپے اور تیسرے مقام پر آنے والے کو 10 ہزار روپے کا نقد انعام دیا جائے گا۔ کامیاب شرکا کو مہاراشٹر یوا جل دوت میڈل سے بھی نوازا جائے گا۔ تھانے کے ضلع کلکٹر ڈاکٹر شری کرشن پانچال نے کہا کہ پانی کا تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ اسے ہر شہری کی عوامی تحریک بننا چاہیے۔ انہوں نے مقامی سطح پر عوام کی فعال شرکت اور عملی اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے علاقوں کے نالوں، جھیلوں اور کنوؤں کی صفائی، ایک پیڑ ماں کے نام مہم کے تحت شجرکاری اور گھروں میں پانی کا محتاط استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شہریوں کی اجتماعی کوششوں سے ہی پانی کی قلت کے مسئلے سے مؤثر طور پر نمٹا جاسکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے