
جنگِ آزادی میں ہندوستانی مسلمانوں کی قربانیاں ناقابلِ فراموش : ڈاکٹر ریحان اختر
علی گڑھ، 17 اگست (ہ س)۔ معروف عالم دین و سماجی کارکن ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی نے پریس کو جاری بیان میں کہا کہ ہندوستان کی آزادی مختلف مذاہب، زبانوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی مشترکہ جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ جنگِ آزادی میں ہندوستانی مسلمانوں نے بھی ہر محاذ پر نمایاں کردار ادا کیا اور ان کی قربانیاں ملکی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیپو سلطان نے برطانوی توسیع پسندی کے خلاف مسلح مزاحمت کی، جبکہ بہادر شاہ ظفر نے 1857 کی بغاوت میں علامتی قیادت کرتے ہوئے مختلف علاقوں کے انقلابیوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی دور میں مولوی محمد باقر نے صحافت کو انگریزوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا ذریعہ بنایا اور اپنی جان قربان کی۔ ڈاکٹر ریحان اختر نے کہا کہ مولانا فضلِ حق خیرآبادی نے 1857 میں برطانوی اقتدار کے خلاف فتویٰ جاری کیا اور بعد میں جلاوطنی و قید کی صعوبتیں برداشت کیں۔ سر سید احمد خان نے تعلیمی اور سماجی اصلاحات کے ذریعے مسلمانوں میں جدید تعلیم کا شعور پیدا کیا اور علی گڑھ تحریک کو فروغ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حسرت موہانی مکمل آزادی کا مطالبہ کرنے والے ابتدائی رہنماؤں میں شامل تھے، جبکہ مولانا حسین احمد مدنی نے متحدہ قومیت کے تصور کی حمایت کی۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے صحافت اور سیاسی قیادت کے ذریعے تحریکِ آزادی کو مضبوط کیا، ہندو مسلم اتحاد کی وکالت کی اور آزادی کے بعد ملک کے پہلے وزیرِ تعلیم کی حیثیت سے تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر ریحان اختر نے کہا کہ ان شخصیات کے علاوہ ہزاروں مسلم علما، مجاہدینِ آزادی، صحافیوں، شاعروں، ادیبوں، سیاسی رہنماؤں اور عام شہریوں نے بھی آزادی کے لیے قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کسی ایک فرد یا طبقے کی کامیابی نہیں بلکہ پورے ہندوستانی سماج کی مشترکہ جدوجہد، اتحاد اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگِ آزادی میں ہندوستانی مسلمانوں کی خدمات اور قربانیاں نئی نسل کو حب الوطنی، قومی یکجہتی، قربانی اور عوامی خدمت کا پیغام دیتی ہیں، جنہیں تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ