
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام”جدوجہدآزادی میں اسلاف کی قربانیاں ملک وملت کی تعمیر وترقی کیلئے رول ماڈل“کے عنوان پر عظیم الشان قومی سمپوزیم کا انعقاد
نئی دہلی: 17 اگست(ہ س )۔
وطن عزیز کا ہر خاص وعام جانتا ہے کہ کتنی قربانیوں اور کس طرح کے خونچکاں حالات اور پرآشوب دور سے گزر کر ،خون جگر جلا کر ،گردن کٹا کر،مصیبتیں جھیل کر اور دار ورسن کے منازل طے کرکے صبح آزادی نصیب ہوئی ہے جس کا ادنیٰ احساس کرتے ہی دل دہلتاہے اور آنکھوں سے خون کے آنسو ٹپکنے لگتے ہیں۔ہمیں اپنے اسلاف کی روشن تاریخ سے نئی نسل کو آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ جدوجہد آزادی اور تعمیر ملک ملت کے حوالے سے اپنے اسلاف کی قربانیوں کو جان سکیں۔نعمت آزادی کی قدر کریں اور اس عظیم امانت کی حفاظ کریں۔ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر محترم مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے گزشتہ روز 15/اگست 2026ء کو مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام ”جد وجہد آزادی میں اسلاف کی قربانیاں ملک وملت کی تعمیر و ترقی کے لیے رول ماڈل “ کے عنوان پر اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا ،نئی دہلی میں منعقدہ عظیم الشان قومی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میںکہا کہ آزادی سب سے بڑی نعمت ہے اور سب سے بڑی دولت بھی، اس کے بغیر ایک انسان کچھ بھی نہیں ہے۔لیکن یاد رکھیں کہ آزادی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کے پاس لاٹھی ہے تواسے جہاں چاہیں ،جیسے چاہیں گھماتے پھریں گے، بلکہ آپ کی لاٹھی سامنے والے کی ناک تک پہنچنے سے پہلے ہی آپ کی آزادی کوختم کردیتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پدرم سلطان بود اس لئے نہیں کہا جاتا کہ ہم فخر کریں بلکہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ہم یہ نہیں جانیں گے کہ ہمارے اسلاف نے کن لوگوں کے خلاف جنگ لڑی اور آزادی حاصل کی تب تک ہم ٹکراو¿ اور تقسیم کی ذلت سے نہیں بچ پائیں گے۔بنگال سے کون لوگ اٹھے تھے، فرائضی تحریک کہاں سے اٹھی اور کہاں پہنچی، یہ سب ہمارے نوجوانوں اور بچے بچے کو جاننے کی ضرورت ہے۔خاص طور پر تحریک شہیدین اور صادقان صادق پور کو یاد رکھنا ہوگا۔مولانا ابولکلام آزاد کے بقول آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بلندیوں سے اترآئے اور دہلی کے قطب مینار پر کھڑے ہوکر یہ اعلان کردے سوراج24گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہندو مسلم اتحاد سے دستبردار ہوجائے تو میں سوراج سے دستبردار ہوجاوں گامگر ہندومسلم اتحا د سے دستبردار نہیں ہوں گا۔ کیوں کہ اگرسوراج کے ملنے میں تاخیر ہوئی تو یہ صرف ہندوستان کا نقصان ہوگالیکن اگر ہمارا اتحادجاتا رہا تو یہ پوری عالم انسانیت کا نقصان ہوگا۔یاد رکھیں کہ ہمارے عظیم لیڈرگاندھی جی جو تقسیم کے سخت مخالف تھے،بعد میں تقسیم کیلئے تیار ہوگئے لیکن مولانا ابوالکلام آزاد آخری وقت تک اس کیلئے تیار نہیں تھے۔
امیر محترم نے اپنے خطاب میں زور دے کر کہا کہ وطن سے محبت فطری ہے اور اسلام اور اس کی روشن تعلیمات نے وطن سے محبت بے حد اہمیت دی ہے جسے آپ نے آیات و احادیث،عربی اشعار اور مقولوں کے ذریعہ واضح کیا۔
افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد ہارون سنابلی نے امیر محترم کی مساعی جمیلہ کا خوبصورت انداز میں ذکر کیا اورکہا کہ وطن عزیز بے شمار قربانیوں کے بعد آزاد ہوا۔ جدوجہد آزادی میں حصہ لینے والوں کو یاد کرنا ہمارے بیدار ہونے کی دلیل ہے۔
ازیں قبل ناظم اجلاس ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی نے تمام مقررین و شرکاء کا بصمیم قلب مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور اس کے ذمہ داران کی طرف سے استقبال کیا اور جدوجہد آزادی کے مختلف مراحل کا تذکرہ کرتے ہوئے مجاہدین آزادی کی مساعی جمیلہ پر اجنالا روشنی ڈالی ۔
سمپوزیم میں مولانا صلاح الدین مقبول مدنی ،سرپرست مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے جدوجہد آزادی میں علماء اہل حدیث کا کردار کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اسلاف کی قربانیوں کا تفصیلی تذکرہ کیا ۔پدم شری پروفیسر اختر الواسع ،پروفیسر ایمیریٹس جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی نے اپنے تاثراتی کلمات میں ذمہ داران جمعیت خصوصا امیر جماعت مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے موضوع پر سمپوزیم کا انعقاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
مولانا عبدالاحد مدنی استاذ المعہد العالی للتخصص فی الداسات الاسلامیہ نے ”تحریک شہیدین : جد و جہد آزادی کا نقش اولین“ کے موضوع پرمغز خطاب کیا ۔ فیروز احمد ایڈوکیٹ صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نے اپنے تاثرات میں سمپوزیم کے انعقاد پر ستائش کی۔
مولانا مفتی عطاء الرحمن قاسمی صدر شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ،مولانا رضوان رفیقی اسسٹنٹ سکریٹری جماعت اسلامی ہند ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے شعبہ اردو کے پروفیسر ندیم احمد ،مولانا اظہر مدنی ڈائریکٹر اقراء انٹر نیشنل اسکول ، ،مولانا عبدالغنی مدنی استاذ المعہد العالی للتخصص فی الدراسات الاسلامیہ ،ایڈوکیٹ رئیس احمد ممبر ایڈوکیٹ پینل حکومت دہلی ،ڈاکٹر جنید حارث استاذ جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی ،پروفیسر مظہر علی سلفی استاذ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ،حافظ شکیل احمد میرٹھی، سابق امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث دہلی ،حافظ محمد یوسف ،نائب ناظم مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند ،مولانا محمد مستقیم سلفی سابق پرنسپل المعہد العالی وغیرہ نے سمپوزیم کے انعقاد پر ستائش کی اور مختلف موضوعات پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
اس سمپوزیم کا آغاز حافظ ارمغان کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس میں دہلی واطراف کے ائمہ ومتولیان،اساتذہ و طلبا مدارس وعصری جامعات ،صحافی حضرات کے علاوہ عوام وخواص نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais