
نئی دہلی، 17 اگست (ہ س)۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر -سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) حمایت یافتہ شہزاد بھٹی نیٹ ورک (ایس بی این) کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 14 ریاستوں میں 253 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ نیٹ ورک کے خلاف 80 سے زائد ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔
یوم آزادی کے ارد گرد ایس بی این سے متعلق گڑبڑیوں کو روکنے کے لیے 12 اگست کو ریاستی پولیس فورسز کے ساتھ ریئل ٹائم انٹیلی جنس شیئرنگ سسٹم کے ذریعے ایک مربوط کثیر ریاستی مہم چلائی گئی۔ اس میں 14 ریاستوں میں 253 لوگوں کو حراست میں لیا گیا، جس میں اتر پردیش (62)، ہریانہ (52)، دہلی (51)، پنجاب (44)، راجستھان (15)، مہاراشٹر (8)، اتراکھنڈ (5)، کرناٹک، گجرات اور بہار (3-3) اور تلنگانہ، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور کیرالہ کے دو- دو افراد شامل ہیں۔ نئی ایف آئی آر دہلی اور کرناٹک میں درج کی گئی ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ مودی حکومت نے یوم آزادی سے قبل آئی ایس آئی کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروپ ’شہزاد بھٹی نیٹ ورک‘ کو ختم کر دیا ہے اور اس کے 200 سے زیادہ اراکین کو گرفتار کر کے خطرناک حملے کرنے کے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہندوستانی سیکورٹی فورسز نے 14 ریاستوں میں مختلف مقامات پر بیک وقت مہم چلا کر اس نیٹ ورک کو ختم کیا، جو دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی ’قطعی برداشت نہ کرنے‘کی پالیسی کی ایک بڑی مثال ہے۔
شاہ نے کہا کہ آئی ایس آئی کی مالی امداد سے چلنے والے گروپ سے بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا، جس میں آئی ای ڈیز، پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے نشان والے دستی بم، پستول، فعال گولہ بارود اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے سی سی ٹی وی کیمرے شامل ہیں۔ یہ نیٹ ورک متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔
ایس بی این ایک آئی ایس آئی کا حمایت یافتہ دہشت گرد سنڈیکیٹ ہے۔ یہ گروہ ہندوستان میں دستی بم، آئی ای ڈی اور پٹرول بم حملوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث رہا ہے۔ ایس بی این نے مقامی معاونین کو پیسے دے کر پولیس، دفاع اور مذہبی مقامات کی ریکی کرواتا تھا اورجاسوسی کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے لگواتا تھا۔
اب تک ایس بی این کے خلاف 80 سے زائد ایف آئی آر اور 200 سے زائد گرفتاریاں درج کی جا چکی ہیں۔ یہ کیس یو اے پی اے، بی این ایس، آرمس ایکٹ، این ڈی پی ایس ایکٹ اور دھماکہ خیز مواد ایکٹ کے تحت درج کیے گئے ہیں۔ آئی ای ڈی، پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے نشانات والے دستی بم، پستول، فعال گولہ بارود اور سی سی ٹی وی کیمرے برآمد کیے گئے ہیں، جو نیٹ ورک کے براہ راست سرحد پار روابط کی تصدیق کرتے ہیں۔
سیکورٹی ایجنسیوں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ حکومت ہند کی سرحد پار دہشت گردی کے تئیں زیرو ٹالرنس یعنی قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی ہے اور ملک بھر میں ایس بی این نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے مربوط کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد