
نئی دہلی، 17 اگست (ہ س)۔ راوز ایونیو عدالت نے دہلی ڈرگ اسکینڈل کے ملزم ڈاکٹر ونود کمار رنگا کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی ہے۔ خصوصی جج ودیا پرکاش نے معاملہ کے تفتیشی افسر کو اس کیس کے دوسرے ملزم اور سابق ڈائریکٹر جنرل آف ہیلتھ سروسز، دہلی ڈاکٹر وتسلہ اگروال کی ضمانت کی درخواست سے متعلق کچھ سوالات کی وضاحت کے لیے طلب کیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ ڈاکٹر وتسلہ اگروال کی ضمانت کی درخواست پر کل یعنی 18 اگست کو فیصلہ کیا جائے۔
دونوں ملزموں کو اینٹی کرپشن برانچ نے گرفتار کیا تھا۔ ان دونوں پر ادویات اور طبی آلات کی خریداری میں سات سو کروڑ روپے کے غلط استعمال کا الزام ہے۔ سماعت کے دوران ڈاکٹر وتسلہ اگروال کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل رمیش گپتا نے کہا تھا کہ وہ گزشتہ 40 دنوں سے جیل میں ہیں۔ درخواست گزار کو صحت کے مسائل ہیں، جن کا ذکر حراستی حکم نامے میں بھی کیا گیا ہے۔ رمیش گپتا نے کہا تھا کہ کچھ اعلی درجے کے لوگوں کو بچانے کے لیے وتسلہ اگروال کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وتسلہ اگروال کے گھر سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوا ہے۔
ملزم ڈاکٹر ونود کمار رنگا کی طرف سے پیش ہوئے وکیل وجے بشنوئی نے کہا تھا کہ درخواست گزار 54 دن سے حراست میں ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر تفتیشی ایجنسی تحقیقات کے لیے مزید وقت لینا چاہتی ہے تو درخواست گزار کو عبوری ضمانت دی جانی چاہیے۔ تاہم عدالت نے کہا تھا کہ وہ درخواست گزار کو عبوری ضمانت پر رہا نہیں کرنا چاہتی۔
اس معاملے میں ایف آئی آر اینٹی کرپشن برانچ نے ڈائریکٹوریٹ آف ویجیلنس کی شکایت پر 2 جون کو درج کی تھی۔ ایف آئی آر میں ادویات، جراحی کے سامان اور طبی آلات کی خریداری میں تقریبا 700 کروڑ روپے کے غبن کا الزام لگایا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ہیرا پھیری ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز، دہلی اور دہلی حکومت کی سنٹرل پروکیورمنٹ ایجنسی نے کی تھی۔
ہندوستان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی