
نئی دہلی، 17 اگست (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی ایکسائز گھوٹالہ معاملہ میں ٹرائل کورٹ کے بری ہونے کے حکم کو چیلنج کرنے والی سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے تمام مدعا علیہان کو چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جسٹس منوج جین کی بنچ نے کہا کہ سماعت کی اگلی تاریخ 5 اکتوبر سے شروع ہونے والے ہفتے میں طے کی جائے گی۔ ان تاریخوں پر عدالت سی بی آئی کے دلائل سنے گی۔
پیر کو سماعت کے دوران تمام ملزموں نے کہا کہ سی بی آئی کی عرضی قابل سماعت نہیں ہے۔ اس پر سی بی آئی کی طرف سے پیش سالیسیٹر جنرل تشار مہتا اور اے ایس جی ایس وی راجو نے کہا کہ یہ ایک مضحکہ خیز دلیل ہے۔ مہتا نے کہا کہ ملزم عوامی طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کا فیصلہ اچھا ہے۔ پھر عدالت کو فیصلہ کرنے دیں۔ اس کے بعد عدالت نے کہا کہ اس کی مکمل سماعت کی ضرورت ہے۔ ٹکڑے ٹکڑے میں سماعت نہیں ہو سکتی۔ دلائل ایک بار سنے جائیں گے۔
دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے اس معاملے میں سی بی آئی کی عرضی کی مخالفت کی ہے۔ دونوں نے کہا ہے کہ سی بی آئی کی عرضی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے بمشکل چار گھنٹے بعد دائر کی گئی تھی۔ یہ درخواست اس قدر جلد بازی میں دائر کی گئی تھی، جو سنجیدگی کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ کیجریوال اور سسودیا نے کہا ہے کہ سی بی آئی کی درخواست میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں کسی غلطی کا ذکر نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں سی بی آئی کی عرضی قابل سماعت کیسے ہو سکتی ہے؟
ہائی کورٹ نے 16 جولائی کو کیجریوال، منیش سسودیا اور درگیش پاٹھک کو سی بی آئی کی عرضی پر اپنا جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیا تھا۔ یہ معاملہ جسٹس منوج جین سے پہلے جسٹس سورن کانتا شرما کی بنچ کے سامنے درج کیا گیا تھا۔
راو¿ز ایونیو عدالت نے 27 فروری کو تمام ملزموں کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔ راو¿ز ایونیو کورٹ نے کہا تھا کہ چارج شیٹ میں کئی تضادات ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ہزاروں صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں پیش کردہ حقائق گواہوں کے بیانات سے میل نہیں کھاتے۔ راو¿ز ایونیو عدالت نے کہا تھا کہ منیش سسودیا اس معاملے میں تقریبا 530 دن تک جیل میں رہے۔ اروند کیجریوال نے دو مدتوں میں 156 دن جیل میں گزارے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے سی بی آئی معاملہ میں ضمانت ملنے کے بعد اروند کیجریوال کو 13 ستمبر 2024 کو رہا کیا گیاتھا۔
ہندوستان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی