بی جے پی کی نئی قومی ٹیم میں تجربہ، نوجوان جوش اور سماجی شمولیت کا توازن
نئی دہلی، 17 اگست (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نو منتخب قومی صدر نتن نوین کی نئی ٹیم میں تنظیمی تجربے، نوجوان جوش، علاقائی تنوع اور سماجی شمولیت کا وسیع توازن نظر آیا ہے۔ پیر کو جاری کی گئی نئی قومی عہدیداران کی فہرست میں ملک کی 23 ریا
بی جے پی کی نئی قومی ٹیم میں تجربہ، نوجوان جوش اور سماجی شمولیت کا توازن


بی جے پی کی نئی قومی ٹیم میں تجربہ، نوجوان جوش اور سماجی شمولیت کا توازن


بی جے پی کی نئی قومی ٹیم میں تجربہ، نوجوان جوش اور سماجی شمولیت کا توازن


نئی دہلی، 17 اگست (ہ س)۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نو منتخب قومی صدر نتن نوین کی نئی ٹیم میں تنظیمی تجربے، نوجوان جوش، علاقائی تنوع اور سماجی شمولیت کا وسیع توازن نظر آیا ہے۔ پیر کو جاری کی گئی نئی قومی عہدیداران کی فہرست میں ملک کی 23 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو نمائندگی دی گئی ہے۔ تقریباً 65 ارکان پر مشتمل نئی ٹیم میں خواتین اور شمال مشرقی خطے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ تریپورہ، آسام اور ناگالینڈ سے تین علاقائی رہنماوں کو ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مخصوص نارتھ ایسٹ کوآرڈی نیشن سیل کو بھی برقرار رکھا گیا ہے، جس کی ذمہ داری ڈاکٹر سمبت پاترا سنبھالیں گے۔ شمال مشرق سے نوجوان رہنما مریگانک برمن کو قومی سکریٹری بنایا گیا ہے۔

وہیں اتر پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ریاست سے آٹھ رہنماوں کو جگہ دی گئی ہے۔ ان میں ریکھا ورما اور پروفیسر طارق منصور کو قومی نائب صدر، جبکہ سابق مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی اور ہریش دویدی کو قومی جنرل سکریٹری بنایا گیا ہے۔ وہیں ڈاکٹر بھولا سنگھ اور سنگیتا یادو کو قومی سکریٹری بنایا گیا ہے۔ امر پال موریہ کو او بی سی مورچہ کا صدر اور کنور باسط علی کو اقلیتی مورچہ کا صدر مقرر کیا گیا ہے۔

سماجی نمائندگی کے لحاظ سے بھی نئی ٹیم میں مختلف طبقات کو جگہ دی گئی ہے۔ اس ٹیم میں مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور شمال مشرق سے چار قبائلی نمائندوں کو شامل کیا گیا ہے، جن میں دو خواتین ہیں۔ وہیں اتر پردیش، تمل ناڈو اور مدھیہ پردیش سے تین درج فہرست ذاتوں کے نمائندوں کو جگہ دی گئی ہے۔

قومی تنظیم میں ملک کے مختلف حصوں سے 10 تجربہ کار خواتین رہنماو¿ں کو شامل کیا گیا ہے۔ پارٹی نے اسے اعلیٰ تنظیمی عہدوں پر خواتین کی شمولیت بڑھانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

نئی ٹیم میں مختلف مذہبی برادریوں کی بھی نمائندگی ہے۔ ہندو رہنماو¿ں کے ساتھ ایک سکھ، دو عیسائی، ایک مسلم، ایک جین اور ایک پارسی رکن کو شامل کیا گیا ہے۔

تجربہ کار رہنماو¿ں پر اعتماد

نئی ٹیم میں انتظامی اور سیاسی تجربے کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔ اس میں تین سابق وزرائے اعلیٰ—وسندھرا راجے، تیرتھ سنگھ راوت اور بپلپ کمار دیب شامل ہیں۔ سابق تنظیمی جنرل سکریٹری سنیل بنسل کو دوبارہ تنظیمی جنرل سکریٹری بنایا گیا ہے، جبکہ رام مادھو کی بھی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے اور انہیں نائب صدر بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی سابق ریاستی صدور کو بھی قومی سطح پر ذمہ داری دی گئی ہے۔

ٹیم میں مرکزی حکومت میں سابقہ تجربہ رکھنے والے چار رہنما اور ایک موجودہ مرکزی وزیر بھی شامل ہیں۔ وہیں لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے وابستہ 18 فعال عوامی نمائندوں کو جگہ دی گئی ہے، جو قانون سازی کے تجربے اور زمینی سیاسی رابطے کو قومی ٹیم میں لے کر آئیں گے۔ آندھرا پردیش سے ڈی پروندیشوری کو قومی نائب صدر اور تمل ناڈو کے ما وینکٹیشن کو قومی سکریٹری بنایا گیا ہے۔

مہارت کو خصوصی اہمیت

بی جے پی کی قومی ٹیم میں سیاسی تجربے کے ساتھ مختلف پیشہ ورانہ شعبوں کی مہارت کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ فہرست میں پروفیسر، پی ایچ ڈی ڈگری یافتہ، ڈاکٹر، انجینئر، چارٹرڈ اکاو¿نٹنٹ اور وکیل جیسے پیشہ ور افراد شامل ہیں۔ ان میں کینسر اسپیشلسٹ ڈاکٹر مدھو چندرا کر اور کرناٹک کے پروفیسر ایم ناگراج کو قومی نائب صدر بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ جے این یو میں اے بی وی پی کارکن رہ چکے اور موجودہ وقت میں دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر سودیش سنگھ کو قومی سکریٹری بنایا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ دہلی کے سابق میونسپل کارپوریشن میئر جے پرکاش کو قومی سکریٹری اور ڈی ڈی اے کے سابق رکن راجیو ببر کو نارتھ ایسٹ کا شریک کنوینر بنایا گیا ہے۔ عام آدمی پارٹی سے بی جے پی میں شامل ہونے والے سندیپ پاٹھک کو بھی ٹیم میں قومی سکریٹری بنایا گیا ہے۔

مجموعی طور پر نئی قومی ٹیم میں تجربے اور نوجوان جوش کے ساتھ علاقائی، سماجی، خواتین اور مذہبی نمائندگی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ پارٹی کے مطابق، اس سے قومی تنظیم کو ملک کے مختلف سماجی اور علاقائی حالات کی بہتر سمجھ کے ساتھ کام کرنے میں مدد ملے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande