تہران کا واشنگٹن کو دوٹوک جواب، مذاکرات پر ابھی فیصلہ نہیں، آبنائے ہرمز پر اختیار برقرار رکھنے کا اعلان
ریاض، 15 اگست(ہ س)۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب پہنچنے کے باوجود تہران نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران فی
ایرانی وزیرخارجہ


ریاض، 15 اگست(ہ س)۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب پہنچنے کے باوجود تہران نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران فی الحال امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی بحالی کے بارے میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچا۔ایرانی خبر رساں ایجنسی ’ایسنا‘ کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ قطر اور پاکستان ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں اور پیغامات کا تبادلہ بھی جاری ہے، تاہم یہ رابطے ابھی امریکہ کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کی سطح تک نہیں پہنچے ہیں۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے واشنگٹن کے دباؤ اور دھمکیوں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران طاقت کے مظاہرے یا دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکے گا۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے اختیار کے بغیر نہ کھولی جا سکتی ہے اور نہ بند کی جا سکتی ہے۔

غریب آبادی کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ جلد اعلان کریں گے کہ آبنائے ہرمز امریکہ کے تابع ہو گئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک کی ایک پولیس اکیڈمی میں سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو شدید شکست کا سامنا ہے اور امریکہ تہران کو اپنی موجودہ سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی کہا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ایک سخت اقتصادی کارروائی کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ٹرمپ کے تازہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پہلے ہی ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کا عندیہ دے چکے ہیں۔بیسنٹ نے کہا تھا کہ امریکہ تہران کے خلاف ایسے اقدامات کرنے والا ہے جو اس سے پہلے نہیں دیکھے گئے۔ ان کے مطابق ان اقدامات کا اعلان ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے کیا جا سکتا ہے۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششیں مشکلات سے دوچار ہیں۔امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ جنگ بندی پیر کو ختم ہونے کے قریب ہے۔ فریقین کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور کئی ماہ سے جاری تنازع ختم کرنے کے لیے کسی نئے معاہدے کی کوششیں تاحال تعطل کا شکار ہیں۔موجودہ صورتحال میں ایک طرف قطر اور پاکستان کے ذریعے سفارتی رابطے جاری ہیں تو دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے مزید اقتصادی اور سیاسی دباؤ کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ایسے میں ایران کا آبنائے ہرمز پر اپنا اختیار برقرار رکھنے کا اعلان خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات کو نمایاں کرتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande