
نیویارک/تہران، 15 اگست (ہ س)۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو یہاں اعلان کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو باضابطہ طور پر امریکہ کا علاقہ قرار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان گارڈن سٹی میں واقع ناساو¿ کاو¿نٹی پولیس اکیڈمی میں ریپبلکن گورنر کے امیدوار بروس بلیک مین کی حمایت میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اپنی ترجیحات کا ذکر کیا۔ ٹرمپ نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے پ±رجوش اجتماع سے کہا کہ یہ جغرافیائی سیاسی قدم تہران کے فوجی ہتھیار ڈالنے کے بعد اٹھایا جائے گا۔
ون امریکہ نیوز نیٹ ورک اور الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اعلان کیا، ”ایران کو بری طرح شکست دینے کے بعد میں جلد ہی آبنائے ہرمز کو امریکہ کا علاقہ قرار دے دوں گا۔“ انہوں نے کہا کہ امریکی بحریہ کی ناکہ بندی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ واشنگٹن کی اجازت کے بغیر کوئی بھی جہاز اس اہم بحری راستے سے گزر نہیں سکتا۔ صدر کا یہ اعلان جولائی کے آخر میں بالواسطہ سفارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے سخت موقف کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
ایرانی حکام نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے غلبے کے دعووں کو مسترد کر دیا۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ یہ ناممکن ہے۔ تہران امریکی دھمکیوں یا فوجی کارروائیوں سے خوفزدہ نہیں ہوگا۔ آبنائے ہرمز کا کھلا یا بند رہنا مکمل طور پر ایران کے دائرہ اختیار میں ہے۔
غریب آبادی نے کہا کہ یہ آبی راستہ ایران کا ہی رہے گا اور جب تک امریکہ ہار نہیں مان لیتا، اس کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمت نامے (ایم او یو) کا مقصد جنگ ختم کرنا تھا، نہ کہ جنگ بندی کرنا۔ امریکہ نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی اور لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔ اس لیے 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ