
چامراج نگر، 15 اگست (ہ س)۔ کرناٹک کے چامراج نگر ضلع میں کاویری وائلڈ لائف سینکچری کے ہنور تعلقہ کے شاگیہ جنگلاتی علاقے میں ہفتہ کی صبح محکمہجنگل کے اہلکاروں اور مبینہ شکاریوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ مرنے والوں کی شناخت انتونیسوامی، پیٹر اور کمار کے طور پر کی گئی ہے۔ اس فائرنگ میں ایک فاریسٹ اہلکار بھی زخمی ہوا ہے اور اس کا علاج کولیگال سرکاری اسپتال میں چل رہا ہے۔
محکمہ جنگلات کے مطابق، انہیں مصدقہ اطلاع ملی تھی کہ کچھ لوگ جنگلی حیاتیات کا شکار کرنے کے لیے جنگل میں داخل ہوئے ہیں۔ جس کے بعد محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے شاگیہ جنگلاتی علاقے میں مہم شروع کی۔ محکمہ کا دعویٰ ہے کہ مہم کے دوران مبینہ شکاریوں نے جنگل کے اہلکاروں پر گولی چلانے کی کوشش کی جس سے جوابی کارروائی کی گئی۔کاروائی میں تین افراد مارے گئے۔
تینوں مرنے والوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے میسور کے کے آر اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ محکمہ جنگلات کے ذرائع کے مطابق، کارروائی کے دوران ایک دیسی ساختہ بندوق اور ایک ہرن کی لاش بھی برآمد ہوئی ہے۔
دیہی باشندوں نے محکمہ جنگلات پر سنگین الزامات عائد کئے
اس واقعہ سے مقامی دیہی باشندوں میں غم و غصہ پھیل گیا۔ انہوں نے محکمہ جنگلات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ہلاک ہونے والے تینوں افراد شکاری نہیں بلکہ کسان تھے۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے پہلے انہیں حراست میں لیا اور پھر قریب سے گولی مار دی۔
مشتعل مظاہرین نے شاگیہ میں سب ڈویژنل فاریسٹ آفیسر کے دفتر میں گھس کر فرنیچر کو نقصان پہنچایا۔ صورتحال پر نظر رکھی جارہی ہے کیونکہ اس واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
مجسٹریٹ سطح کی انکوائری کا حکم
بنگلورو میں ہوئے واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ حکومت کو واقعہ کے بارے میں مکمل معلومات مل گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگلاتی علاقے میں فائرنگ کے واقعہ کی مجسٹریٹ جانچ کا حکم دے دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ واقعے سے متعلق ہتھیار اور دیگر متعلقہ مواد قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد معاملے کے حقائق ریاست کے عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد