
آگرہ، 15 اگست (ہ س)۔ یومِ آزادی کے موقع پر ہفتہ کے روز اتر پردیش کے ضلع آگرہ میں تاج محل کے اندر چھپا کر ترنگا لے جانے اور اسے لہرانے کی کوشش کے الزام میں تین ہندو رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
سی آئی ایس ایف کمانڈنٹ ویبھو پانڈے نے بتایا کہ تاج محل میں مذہبی تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی ہے۔ ہفتہ کو پیشگی منصوبے کے تحت اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا سے وابستہ کچھ عہدیداران اور کارکن عام لباس میں ترنگا اپنے کپڑوں میں چھپا کر بھیس بدل کر تاج محل میں داخل ہوئے۔ تاج محل میں مہمان خانہ کے قریب پہنچ کر تقریباً 10 بجے قومی پرچم لہرانے کی کوشش کی گئی۔ ڈیوٹی پر تعینات سی آئی ایس ایف اہلکاروں نے موقع پر تین کارکنوں کو ترنگے سمیت حراست میں لے لیا۔
پوچھ گچھ کے دوران ان لوگوں کی شناخت نیتو ٹھاکر، ضلع صدر، ویمن ونگ، نشا ٹھاکر، میٹروپولیٹن صدر، خواتین شعبہ ، اور منیش پنڈت، میٹروپولیٹن صدر کے طور پر ہوئی۔ سی آئی ایس ایف نے تینوں عہدیداران کو مقامی تاج گنج پولیس کے حوالے کر دیا، جہاں ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ آج یومِ آزادی کے موقع پر صبح اکھل بھارت ہندو مہاسبھا کی ضلع صدر میرا راٹھور، اوتار سنگھ گل، ریاستی ترجمان، اکھل بھارت ہندو مہاسبھا، اور مینا دیواکر، ریاستی صدر، ویمن مورچہ، کی جانب سے تاج محل میں ترنگا لہرانے کے اعلان کے بعد سی آئی ایس ایف اور مقامی پولیس اہلکار چوکس تھے۔ اس سے قبل بھی یہ تنظیم یومِ جمہوریہ کے موقع پر تاج محل کے مرکزی گنبد کے قریب ترنگا لہرانے کی کوشش کر چکی ہے۔ ویمن مورچہ کی ضلع صدر میرا راٹھور کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے تاج محل میں قومی پرچم لہرانے کی کوشش آئندہ بھی جاری رہے گی۔
سی آئی ایس ایف کمانڈنٹ نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح ہندو مہاسبھا کے تقریباً 10 عہدیداران کپڑوں میں چھپا کر کپڑے کا ترنگا اپنے ساتھ اندر لے گئے تھے، جہاں تاج محل کے اندر اسے لہرانے سے پہلے ہی ان لوگوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
ہندوستھن سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد