سپت دھارا کی طاقت سے بھارت کو نئی بلندی، نئی رفتار دیں گے : نریندر مودی
نئی دہلی، 15 اگست (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے سات اہم شعبوں کو طاقت کی سپت دھارا قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ آنے والے پانچ سے سات سال میں اس سپت دھارا کی قوت سے ملک کو نئی رفتار اور نئی بلندی دیں گے، جس سے دنیا میں
سپت دھارا کی طاقت سے بھارت کو نئی بلندی، نئی رفتار دیں گے : نریندر مودی


نئی دہلی، 15 اگست (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے سات اہم شعبوں کو طاقت کی سپت دھارا قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ آنے والے پانچ سے سات سال میں اس سپت دھارا کی قوت سے ملک کو نئی رفتار اور نئی بلندی دیں گے، جس سے دنیا میں بھارت ایک مضبوط، خود کفیل اور باصلاحیت ملک کے طور پر قائم ہوگا۔

وزیر اعظم مودی نے ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر دارالحکومت کے لال قلعے کی فصیل سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ عالمی سیاست میں ہو رہی تبدیلی اور اس کے اثرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’دنیا اپنے پاس موجود ہر چیز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ وسائل، پٹرول، ڈیزل، کھاد، ادویات، ٹیکنالوجی کی چپس، اتنا ہی نہیں بلکہ زمین کے حصے کو بھی ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ آج بھارت دنیا کے لیے ایک تسلیم شدہ اور قابلِ احترام ملک بن رہا ہے۔ بھارت کے پاس مستحکم سیاسی رائے عامہ ہے، مستحکم حکومت ہے، بھارت کا متحرک جمہوریت ہے، بھارت کا مضبوط عدالتی نظام ہے اور ہم سب کو سمت دینے والا بھارت کا آئین ہے، اور اب دنیا ہماری اس طاقت کو تسلیم کرنے لگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2014 کے بعد دنیا کے تقریباً 40 ممالک کے ساتھ بھارت کے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) ہوئے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا موقع ہے اور اس لیے ہمیں اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا ہے۔

دنیا میں ہمیں اپنی رسائی بڑھانی ہے، بھارت کی ہر مصنوعات عالمی بازار تک پہنچنی چاہیے، چاہے وہ ہماری ٹیکسٹائل ہو، ہماری مشینری ہو یا ادویات، ہمیں موقع نہیں گنوانا ہے۔ لیکن جو عالمی معیار ہیں، ہمیں ان معیارات سے آگے نکلنا ہوگا۔ ہمیں دنیا سے جو ملتا ہے، اس سے بہتر فراہم کرنا ہوگا۔

مودی نے کہا، ’’آج لال قلعے کی فصیل سے میں ملک کے سامنے طاقت کی اس سپت دھارا کا آہوان کرتا ہوں۔ آنے والے 5 سے 7 سال میں جو گزشتہ 5 سے 7 دہائیوں میں نہیں ہوا، وہ سپت دھارا کی قوت اور طاقت سے ہم ملک کو نئی بلندی، نئی رفتار دیں گے اور نئے اہداف کو عبور کرنے کی صلاحیت دیں گے۔‘‘ انہوں نے سپت دھارا کے نکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’آنے والے دنوں میں جب میں سپت دھارا کی بات کرتا ہوں تو سپت دھارا کی پہلی طاقت ہے— مینوفیکچرنگ۔

ہمیں مینوفیکچرنگ سیکٹر کو بہت آگے بڑھانا ہوگا اور پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ ہمیں چھوٹے چھوٹے پرزے بھی بنانے ہیں اور بڑے بڑے مصنوعات بھی تیار کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری ویلیو چین ہماری ہونی چاہیے اور اسی کے مطابق آگے بڑھنا ہے۔ ہمیں پرزے بھی چاہیے اور مکمل مینوفیکچرنگ بھی، مکمل مصنوعات بھی چاہیے۔ ڈیزائن سے لے کر مینوفیکچرنگ تک بھارت کو عالمی سپلائی چین کا قابلِ اعتماد مرکز بننا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ہماری فیکٹریاں مسابقتی ہوں، ہماری مصنوعات استعمال میں آسان ہوں، ہماری پیکیجنگ دنیا کے لوگوں کو لبھانے والی اور پرکشش ہو۔ زیرو ڈیفیکٹ، بہترین مینوفیکچرنگ، یہ ہماری شناخت بننی چاہیے۔

ہر صنعت کار، ہر کاروباری شخص اور ہر ایم ایس ایم ای کو سمجھنا ہوگا کہ عالمی بازار میں ہماری شناخت اعتماد اور معیار کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ معیار کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں اور اسی لیے ہمارا منتر معیار ہی ہونا چاہیے۔ یہی ہماری عالمی برانڈ ویلیو بنے گی۔

وزیر اعظم نے سپت دھارا کی دوسری طاقت زراعت، غذائی پیداوار اور فوڈ پروسیسنگ کو قرار دیا اور کہا کہ ہمیں اس سمت میں آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمارے کسانوں کے لیے اب دنیا کی منڈیاں کھل چکی ہیں، آزاد تجارتی معاہدوں کے باعث ہمیں بہت بڑی منڈیاں مل رہی ہیں، ہمیں وہاں پہنچنا ہے، ہمیں اس موقع کو حاصل کرنا ہے، ہمیں کھیت سے برآمدی بازار تک کا سفر طے کرنا ہوگا۔

ہمارے کسان کیمیکل سے پاک زراعت کو فروغ دیں گے، دنیا میں اس کی مانگ مزید بڑھنے والی ہے اور ہمارے زرعی مصنوعات عالمی معیار پر ہر طرح سے پورا اترنے والے ہوں گے تو ہم دنیا کے بازاروں تک آسانی سے پہنچ سکیں گے۔

انہوں نے کہا، ’’میری سپت دھارا کی تیسری طاقت ہے ٹیکنالوجی اور اختراع۔ آج کا دور اے آئی، کوانٹم، خلاء، روبوٹکس اور ڈیٹا سینٹرز کا ہے۔ ایک بالکل نیا شعبہ کھل چکا ہے۔ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی بھی ہر لمحہ ہمیں چیلنج کر رہی ہیں اور اس لیے ملک کو دنیا کے لیے صرف مارکیٹ نہیں بنانا، ہمیں اختراع کا مرکز بننا ہے۔

ہم نے یو پی آئی اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر میں اپنی صلاحیت منوا لی ہے، اپنی طاقت کا تعارف کرا دیا ہے۔ اب بھارت کو ڈیجیٹل پبلک ٹیکنالوجیز کو بھی دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا ہے۔ بھارت کو اگلی نسل کی مواصلاتی ٹیکنالوجی میں سب سے آگے رہنا ہے۔

میڈ اِن انڈیا 6 جی ہر کونے تک پہنچے، یہ ہمارا ہدف ہونا چاہیے اور ہمیں اس میں تیزی لانی چاہیے اور اس کے لیے ہماری کوششوں میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے۔‘‘

مودی نے کہا کہ سپت دھارا کی چوتھی طاقت ہے— گتی شکتی۔ اس گتی شکتی کے ذریعے ملک کے اندر بلا رکاوٹ اور تیز رفتار رابطے پر ہمیں زور دینا ہوگا۔ شہروں کو ہائی اسپیڈ ریل سے جوڑنا ہوگا۔ جدید شاہراہیں چاہیے، اندرونِ ملک آبی راستے چاہیے، ہوائی اڈے چاہیے، ملٹی موڈل لاجسٹکس کا نظام چاہیے۔

ہمیں بندرگاہوں کو صرف سامان اتارنے اور چڑھانے کی جگہ نہیں بنانا، صرف یہ کافی نہیں کہ دنیا کے بڑے جہاز آکر یہاں لنگر انداز ہوں، بلکہ ہمیں بندرگاہوں پر مبنی ترقی کی سمت میں آگے بڑھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سپت دھارا کی پانچویں طاقت ہے— دفاعی طاقت۔ اور اس دفاعی طاقت کی ہر طرح سے اہمیت ہے۔ دفاع کے شعبے میں خود کفیل ہونا، اب بھارت نے بھی تجربے سے جان لیا ہے اور دنیا نے بھی تجربے سے جان لیا ہے کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔

اگلی نسل کی دفاعی ٹیکنالوجی تیار کرکے ہمیں عالمی سپلائر بننے کی سمت میں ہدف لے کر آگے بڑھنا ہے۔ ہمیں ڈرون، کاؤنٹر ڈرون سسٹم تیار کرنا ہوگا اور ہائپرسونک دفاعی ٹیکنالوجی میں ہمیں سب سے آگے رہنا ہوگا۔

سائبر سکیورٹی بھی آج ہر گھر کے لیے ایک مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ یہ بھی دفاع کا ایک شعبہ ہے، جس میں ہمارے نوجوانوں کی صلاحیت کا استعمال ہم ملک اور دنیا کے لیے کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سپت دھارا کی چھٹی طاقت ہے— گرین اکانومی، بلیو اکانومی، جو گرین جابز کو بھی جنم دیتی ہے۔ ہمیں گرین ہائیڈروجن، قابلِ تجدید توانائی، انرجی اسٹوریج، گرین موبلٹی، گرین مینوفیکچرنگ کو عالمی سطح پر حاصل کرنا ہوگا۔

بھارت کے پاس بلیو اکانومی کے لیے بھی بہت بڑا موقع ہے، ہماری ساحلی پٹی بہت طویل ہے، بلیو اکانومی کے لیے بہت بڑے مواقع ہیں، ماہی گیری ہے، ساحلی سیاحت ہے، اوشن ٹیکنالوجی ہے، ایسے بہت سے شعبے ہیں جن میں ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری ساتویں دھارا ہے— بھارت کی سافٹ پاور۔ بھارت کی سافٹ پاور کے ایک جزو، یوگا نے آج پوری دنیا کو بھارت کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔ یوگا دنیا کے لیے ایک توانائی بنتا جا رہا ہے۔

جس بھارت کے پاس عقیدت کے مراکز ہوں، جس بھارت کے پاس آیوروید ہو، جس طرح بھارت کے پاس جامع صحت کی دیکھ بھال کا نظام ہو، ’ہیل اِن انڈیا‘ کی تحریک ہو، ہم اپنی صلاحیت کو لے کر دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔

دستکاری ہو، ثقافت ہو، ہماری فلمیں ہوں، ہماری تخلیقی دنیا ہو، وی ایف ایکس ہو، ہمارا اینیمیشن ہو، ہماری گیمنگ ہو، ڈیجیٹل مواد ہو، تخلیقی دنیا کے اندر بھارت اپنا مقام منوا سکتا ہے۔

آج بھارت نے ویوز سمٹ کو ایک بہت بڑی طاقت دی ہے۔ دنیا آہستہ آہستہ بھارت کے اس ورلڈ آڈیو ویژول اینڈ انٹرٹینمنٹ سمٹ کی منتظر رہتی ہے اور یہ بھارت کی سافٹ پاور اور بھارت کی تخلیقی دنیا سے پوری دنیا کو متعارف کرائے گا۔

مودی نے کہا کہ بھارت کے پاس وسیع جنگلاتی دولت ہے۔ ہمارے پاس 100 سے زیادہ قومی پارک ہیں۔ صلاحیت بہت ہے، لیکن غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرنے میں ہم پیچھے رہے ہیں۔ ہمارے پاس موقع ہے کہ اپنی سافٹ پاور کے ذریعے دنیا بھر کے سیاحوں کو بھارت کی جانب راغب کریں، ہمیں اپنی صلاحیت دنیا کو دکھانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں کھیل بھی بھارت کی جانب کشش کا ایک بہت بڑا مرکز ہے۔ دنیا کے کھیلوں کے بڑے ایونٹس بھارت میں کیوں نہ ہوں۔ اسی طرح کنسرٹ اکانومی تیزی سے بڑھ رہی ہے، ملک کے نوجوانوں میں اس کی خاص کشش ہے۔ دنیا کا ہر فنکار چاہتا ہے کہ کبھی نہ کبھی بھارت کی سرزمین پر اپنا کنسرٹ کرے۔ یہ ایک بہت بڑا موقع ہے، ہمیں اسے متحرک کرنے کے لیے ضروری انتظامات کھڑے کرنے ہوں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک یعنی صرف حکومت نہیں ہوتی، ملک میں ہر شہری شامل ہوتا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ہمیں آنے والی ایک دہائی میں فارچون 500 کی فہرست میں بھارت کی 50 کمپنیاں شامل ہوں، یہ ہمارا ہدف ہونا چاہیے۔

آج بینکنگ سیکٹر ترقی کر رہا ہے۔ دنیا کے ٹاپ بینکوں میں بھارت کے کسی بینک کا پرچم بھی لہرانا چاہیے۔ دنیا کے پانچ سرفہرست بینکوں میں بھارت کا بھی ایک بینک ہونا چاہیے۔

بھارت کی فارما صنعت کے شعبے میں ہم نے بہت کام کیا ہے، لیکن وقت کی ضرورت ہے کہ دنیا کی پانچ بڑی فارما کمپنیوں میں بھارت کی بھی ایک دو فارما کمپنیوں کا نام گونجنا چاہیے۔

ہماری کوئی کنسلٹنگ فرم، اکاؤنٹنگ فرم دنیا کی ٹاپ فرموں میں شامل ہونی چاہیے۔ بھارت کی ٹیکنالوجی کمپنیاں دنیا میں سب سے آگے ہوں، یہ ہمارا ہدف ہونا چاہیے۔

ہمارے ایسے برانڈز ہوں جن کی جانب دنیا متوجہ ہو۔ ہمارے برانڈز ہمارے ملک کی شناخت بنیں اور دنیا کے لیے ایک منزل بن جائیں، ہمیں اسی سمت میں کام کرنا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande