نوجوان طاقت بھارت کے لیے آبادیاتی نعمت ہے صحیح سمت نہ ملی تو بوجھ بن سکتی ہے : موہن بھاگوت
ناگپور، 15 اگست (ہ س): راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) کے سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ بھارت کی نوجوان آبادی ملک کے لیے ایک بڑی نعمت ہے۔ نوجوانوں کو صحیح سمت، مواقع اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو یہی طاقت ملک کی ترقی کی بڑی
Mohan Bhagwat 15 August Youth Power


Mohan Bhagwat 15 August Youth Power


ناگپور، 15 اگست (ہ س): راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) کے سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ بھارت کی نوجوان آبادی ملک کے لیے ایک بڑی نعمت ہے۔ نوجوانوں کو صحیح سمت، مواقع اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو یہی طاقت ملک کی ترقی کی بڑی قوت بن سکتی ہے، لیکن مناسب استعمال نہ ہونے کی صورت میں یہی نوجوان طاقت مستقبل میں معاشرے کے لیے بوجھ بھی بن سکتی ہے۔

ناگپور کے کستورچند پارک میدان میں ہفتہ کو منعقدہ پروگرام میں جین زی نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر بھاگوت نے کہا کہ نوجوانوں کو صرف موجودہ حالات اور اپنی ضروریات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل پر بھی غور کرنا چاہیے۔ آج کے نوجوان تقریباً 30 سال بعد عمر رسیدہ ہوں گے، اس لیے انہیں اپنی ضروریات کے ساتھ مستقبل کی نسلوں کی ضروریات اور چیلنجز کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

بھارت کو اپنی صورتحال کے مطابق ترقی کے معیار طے کرنے ہوں گے : ڈاکٹر موہن بھاگوت نے کہا کہ بھارت کی ترقی کا اندازہ امریکہ، آسٹریلیا، چین یا نیوزی لینڈ جیسے ممالک کے معیار پر نہیں لگایا جاسکتا۔ بھارت کی وسیع آبادی، جغرافیائی حالات، سماجی ڈھانچہ اور دستیاب وسائل دوسرے ممالک سے مختلف ہیں۔ اس لیے ملک کو اپنی صورتحال اور ضروریات کے مطابق آزادانہ ترقیاتی وژن اور حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا، امریکہ یا چین جیسے وسیع رقبے اور بڑے وسائل رکھنے والے ممالک کے ترقیاتی ماڈل کو اسی شکل میں بھارت میں نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ بھارت کے مسائل کا گہرائی سے مطالعہ کرکے ملک کے حالات کے مطابق ان کے حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

موہن بھاگوت نے کہا کہ نوجوان مستقبل میں ملک کی معاشی قوت بنیں گے۔ روزگار کا مطلب صرف ملازمت حاصل کرنا نہیں، بلکہ محنت کرنے والے ہاتھ بھی ملکی معیشت کی اہم طاقت ہیں۔ اس لیے معاشرے میں محنت کو وقار اور احترام ملنا چاہیے۔انہوں نے نوجوانوں سے ملازمت کی تلاش تک محدود نہ رہنے بلکہ صنعت کاری اور کاروبار کی طرف بڑھنے کی اپیل کی۔ نوجوانوں کو چیلنجز اور مشکلات کا ہمت کے ساتھ سامنا کرتے ہوئے کامیابی کے لیے مسلسل کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا نقطہ نظر بڑی حد تک مادہ پرستانہ ہوگیا ہے، لیکن بھارت کی سوچ صرف دولت کمانے تک محدود نہیں ہے۔ ملک کی اقداری روایت، سماجی ضروریات اور حالات کے مطابق ترقی کی سمت طے کرنا ضروری ہے۔

دنیا کو متوازن ترقی کی سمت دکھانے کی ضرورت: ڈاکٹر بھاگوت نے کہا کہ مستقبل میں بھارت کو دنیا کی رہنمائی اور ترقی کے شعبے میں توازن قائم کرنے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ اس کے لیے ملک کو اپنی صلاحیت اور قوت پر اعتماد رکھتے ہوئے خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ پروگرام میں بڑے ترنگے کی پرچم کشائی کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے قومی پرچم کے پیچھے موجود جذبے اور بھارت کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی کوششوں پر غور کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا اپنا وقار، عزت نفس اور ترقی کا اپنا تصور ہے، اس لیے ترقی کے معیار بھی ملک کو خود طے کرنے چاہئیں۔ دوسرے ممالک سے موازنہ کرنے کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ بھارت اور بھارتی معاشرے کے لیے حقیقت میں کیا ضروری ہے اور اسی سمت آگے بڑھنا چاہیے۔

آزادی کی حفاظت ہر شہری کی ذمہ داری: یوم آزادی کے موقع پر ڈاکٹر موہن بھاگوت نے ناگپور میں واقع راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے مرکزی دفتر میں پرچم کشائی کی ۔ اس موقع پر انہوں نے آزادی کے مجاہدین کی قربانیوں اور جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو حاصل آزادی کی حفاظت کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ڈاکٹر بھاگوت نے کہا کہ یوم آزادی ملک کے لیے فخر اور خوشی کا موقع ہے۔ 1857 کی بغاوت سے 1947 میں آزادی حاصل ہونے تک تقریباً 90 برس تک ملک کے عوام نے مختلف سطحوں پر جدوجہد کی اور متعدد افراد نے اپنی جانیں قربان کیں۔ آزادی کے لیے کی گئی اس طویل جدوجہد اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہونے والی آزادی کو برقرار رکھنا ہر شہری کا فرض ہے۔ بھارت آزاد ہوچکا ہے اور اس کی آزادی برقرار رہے گی، لیکن ملک کو مضبوط، محفوظ اور خوشحال بنانے کی ذمہ داری ابھی پوری نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو آج بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کا مقابلہ کرتے ہوئے ملک کو اپنے بنیادی نظریات اور اصولوں سے جڑے رہنا ہوگا۔ ملک کی یکجہتی، سلامتی اور ترقی کے لیے شہریوں کو ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ڈاکٹر موہن بھاگوت نے کہا کہ بھارت ایسا ملک بنے جو دنیا میں اہم اور مثبت کردار ادا کرسکے۔ انہوں نے بھارت کو عالمی رہنما بنانے کی سمت میں آگے بڑھنے کی بات بھی کہی۔ ان کے مطابق بھارت کی ترقی صرف معاشی یا قومی ترقی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ملک کو اپنی صلاحیتوں اور اقدار کے ذریعے پوری انسانیت کی فلاح و بہبود میں کردار ادا کرنے کی سمت میں آگے بڑھنا چاہیے۔

انہوں نے عوام سے آزادی کی اہمیت کو سمجھنے، آزادی کے مجاہدین کی قربانیوں کو یاد رکھنے اور ملک کے مستقبل کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی اپیل کی۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande