جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملہ، 7 افراد ہلاک، 3 زخمی
بیروت، 15 اگست(ہ س)۔ جنوبی لبنان میں ہفتے کی صبح اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 7 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔ لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق جون میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے بعد یہ ایک ہی حملے میں ہلاکتوں کی
لبنان اسرائیلی حملہ


بیروت، 15 اگست(ہ س)۔

جنوبی لبنان میں ہفتے کی صبح اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 7 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔ لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق جون میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے بعد یہ ایک ہی حملے میں ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان میں حملوں میں اضافہ کرتے ہوئے انصار گاؤں کے مضافات میں ایک گھر کو نشانہ بنایا۔ حملے میں گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ایمرجنسی ٹیموں نے ملبہ ہٹا کر زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا، جبکہ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں بھی نکالی گئیں۔

اسرائیلی فوج نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کارروائی اس کے فوجیوں کے خلاف مبینہ سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی۔تاہم لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے اسرائیلی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انصار گاؤں میں ہلاک ہونے والے افراد فوجی اہداف نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔ سلام نے اسرائیل سے کشیدگی روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حملے انتہائی خطرناک ہیں اور جنوبی لبنان میں استحکام قائم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

جون کے آخر میں امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک فریم ورک معاہدے پر اتفاق کے بعد دونوں جانب سے تشدد میں نمایاں کمی آئی تھی، تاہم جنوبی لبنان میں وقفے وقفے سے اسرائیلی حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔این این اے کے مطابق انصار اور الضراریہ کے درمیان واقع وادی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران جنگ بندی کے بعد اس علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا حملہ تھا۔اسرائیلی جنگی طیاروں نے نبطیہ کے سامنے واقع علی الطاہر پہاڑی چوٹی پر بھی متعدد فضائی حملے کیے۔ اس کے علاوہ سرحد کے قریب واقع بنت جبیل قصبے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے گھروں کو دھماکے سے اڑانے کی بھی اطلاع ہے۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے فریم ورک میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا، جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلا اور علاقے میں لبنانی فوج کی تعیناتی شامل ہے۔ منصوبے کے تحت لبنانی فوج کی تعیناتی کا آغاز مخصوص علاقوں سے کیا جانا ہے۔دوسری جانب حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے جمعہ کو لبنانی حکام پر الزام عائد کیا کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد کے نام پر ملک کی مسلح افواج پر غیر ضروری دباؤ ڈال رہے ہیں۔قاسم نے اسرائیلی حملوں کے تناظر میں لبنانی فوج کے کردار کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی فوج کو اسرائیلی بمباری اور دباؤ کا سامنا ہے اور حکومت کو اس کی حمایت کرنی چاہیے۔اس دوران ہیومن رائٹس واچ نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ امن فوج کے مینڈیٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی لبنان میں بین الاقوامی امن فوج کی موجودگی برقرار رکھی جائے۔

تنظیم کے مطابق امن فوجی شہریوں پر حملوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایک اہم حفاظتی کردار ادا کرتے ہیں۔جنوبی لبنان میں تازہ حملے نے جنگ بندی کے باوجود علاقے میں برقرار کشیدگی اور اسرائیل، لبنان اور حزب اللہ کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے موجود مشکلات کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande