
آسمان میں ہزاروں گھنٹے پرواز کرنے کے بعد اب اکشت سکسینہ نے اپنے بچپن کے خواب کو پر دیتے ہوئے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا ہے۔ ان کے لیے یہ سفر محض پیشہ تبدیل کرنے کی کہانی نہیں، بلکہ والد کی وراثت، اپنے ادھورے خواب اور خود کو ایک نئی شناخت دینے کا جذباتی سفر ہے۔
اکشت کے والد ہندوستانی فضائیہ کے بہادر فائٹر پائلٹ رہے ہیں اور انہوں نے ’آپریشن سفید ساگر‘ میں بھی حصہ لیا تھا۔ ایسے میں اسی آپریشن پر مبنی پروجیکٹ میں فضائیہ کی وردی پہن کر فائٹر کنٹرولر کا کردار ادا کرنا اکشت کے لیے انتہائی جذباتی اور فخر کا لمحہ رہا۔ بچپن میں اسٹیج پر اداکاری کرنے کا خواب دیکھنے والے اکشت نے 33 سال کی عمر میں اپنے کامیاب پائلٹ کیریئر کو الوداع کہہ کر اداکاری کے لیے خود کو مکمل طور پر وقف کرنے کا حوصلہ دکھایا۔ ’آپریشن سفید ساگر‘ سے اپنے اداکاری کے سفر کی شروعات، والد سے ملنے والی ترغیب اور کیمرے کے سامنے پہلی بار کھڑے ہونے کے جذباتی تجربے کے بارے میں اکشت سکسینہ نے ’ہندوستھان سماچار‘ سے خصوصی گفتگو کی۔
سوال: ’آپریشن سفید ساگر‘ آپ کے اداکاری کے سفر کی شروعات ہے، اس فلم سے جڑنے کی خاص وجہ کیا رہی؟
جواب: جب مجھے فلم ’آپریشن سفید ساگر‘ کی اسکرپٹ کے بارے میں بتایا گیا تو اسی وقت سے میری اس میں دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ کارگل جنگ کے وقت سے ہی میں اس آپریشن کے بارے میں جانتا تھا، کیونکہ میرے والد ’میراج 2000‘ کے پائلٹ تھے اور انہوں نے ’آپریشن سفید ساگر‘ میں کئی مشن انجام دیے تھے۔ جب مجھے فائٹر کنٹرولر کا کردار پیش کیا گیا تو یہ میرے لیے بہت دلچسپ اور متاثر کن تھا۔ فائٹر کنٹرولرز اور فائٹر پائلٹس ہندوستانی فضائیہ میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت قریبی طور پر کام کرتے ہیں۔ اسکرپٹ پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ یہ کہانی حقیقت اور سچے واقعات کے بہت قریب ہے، اسی لیے میں نے یہ کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔
سوال: اس فلم میں اپنے کردار کے لیے آپ نے کس طرح کی تیاری کی؟
جواب: اس کردار کی تیاری کے لیے میں نے فضائیہ میں کام کرنے والے اپنے کچھ دوستوں سے بات کی، جو فائٹر کنٹرولرز ہیں۔ میں نے ان سے ان کی زندگی، آپریشنز کے دوران کام کرنے کے طریقے اور فائٹر پائلٹس کے ساتھ ان کے تعلقات کے بارے میں جانا۔ بطور پائلٹ میرا اپنا تجربہ بھی میرے بہت کام آیا۔ میں نے تقریباً 15 سال ریڈیو ٹیلی فونی کا استعمال کیا ہے، اس لیے مجھے معلوم تھا کہ اس طرح کے مواصلات میں کس طرح بات کی جاتی ہے اور پائلٹس کو کس قسم کی معلومات درکار ہوتی ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ اور فضائیہ کے فائٹر کنٹرولر دوستوں سے ہونے والی گفتگو ہی اس کردار کی تیاری کا اہم حصہ رہی۔
سوال: پائلٹ سے اداکار بننے کا سفر شروع کرنے کا خیال آپ کے ذہن میں کب آیا؟
جواب: اداکار بننے کا خواب دراصل بچپن میں ہی شروع ہو گیا تھا۔ جب میں 5-6 سال کا تھا تو میری والدہ نے مجھے کچھ اسٹیج ڈراموں میں حصہ دلوایا تھا۔ تقریباً 8 سال کی عمر میں میرا ایک فوٹو شوٹ بھی ہوا تھا، لیکن اس وقت بات آگے نہیں بڑھ سکی۔ میرے والد فضائیہ میں تھے، اس لیے ہماری پوسٹنگ ہر دو تین سال میں ہوتی رہتی تھی۔ میں نے ملک بھر میں تقریباً 7-8 اسکولوں میں تعلیم حاصل کی ہے۔
خواب بچپن کا تھا، لیکن وہ پورا نہیں ہو سکا۔ فضائیہ کے بعد میں خود پائلٹ بن گیا اور تقریباً 13-14 سال اسی پیشے میں مصروف رہا۔ پھر ایک دن احساس ہوا کہ زندگی ایک ہی بار ملتی ہے اور ہر خواب کو ایک موقع دینا چاہیے۔ میں نے اپنی ملازمت چھوڑ کر مکمل طور پر اداکاری میں آنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد میں نے کافی تربیت حاصل کی۔ عادل حسین سر، نیرج کابی سر اور مکیش چھابڑا سر کے ساتھ ٹریننگ اور ورکشاپس کیں۔ بیری جان سر، جنہیں پدم شری سے نوازا جا چکا ہے، ان کے ساتھ تین ماہ کا ڈپلومہ کورس بھی کیا۔ یہی میری اداکار بننے کی تیاری رہی۔
سوال: پہلی بار کیمرے کے سامنے آنے کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب: پہلی بار کیمرے کے سامنے آنے کا تجربہ بہت اچھا رہا۔ مجھے لگتا ہے کہ زندگی نے مجھے اس کے لیے تیار کیا تھا۔ پائلٹ اور ایئر لائن پروفیشنل کے طور پر میرے تجربے نے مجھے کافی اعتماد دیا۔ اس کے بعد میں نے اداکار بننے کے لیے تربیت بھی لی تھی، اس لیے کیمرے کے سامنے جانے کے حوالے سے اعتماد موجود تھا۔ سیٹ پر بہت مزہ آیا اور پوری ٹیم بہت اچھی تھی۔ ہدایت کار اونی سین میرے ساتھ اب تک کام کرنے والے بہترین ہدایت کاروں میں سے ایک ہیں۔ اس لیے کیمرے کے سامنے کام کرنا میرے لیے بہت اچھا تجربہ رہا۔
سوال: ایک ڈیبیو ٹینٹکی حیثیت سے فلم کے سیٹ پر سب سے بڑا چیلنج کیا رہا؟
جواب: آپ کتنے ہی تیار اور تربیت یافتہ کیوں نہ ہوں، سیٹ پر پہلی بار جانے پر تھوڑی گھبراہٹ ہوتی ہی ہے۔ میرے خیال میں یہ اچھی بات ہے۔ سب سے بڑا چیلنج اس لمحے میں مکمل طور پر موجود رہنا تھا۔ ہر اداکار کو سکھایا جاتا ہے کہ سیٹ کو سیٹ نہ سمجھ کر اس صورت حال کو حقیقت کی طرح جینا ہے۔ ابتدا میں میرے لیے یہ کچھ مشکل تھا۔ لیکن ہماری ٹیم بہت شاندار تھی۔ ہدایت کار اونی سین سر، سدھارتھ، جمی شیرگل اور باقی تمام فنکار انتہائی پیشہ ور تھے۔ انہوں نے سیٹ پر سب کو بہت آرام دہ محسوس کرایا۔ پوری کاسٹ اور عملے کے تعاون کی وجہ سے میرے لیے یہ تجربہ بہت آسان ہو گیا۔
سوال: طیارہ اڑانے اور اداکاری کرنے میں آپ کو کیا مماثلت نظر آتی ہے؟
جواب: دونوں شعبوں میں کافی مماثلت ہے۔ ایک اچھا پائلٹ بننے کے لیے بہت تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے، پڑھائی کرنی پڑتی ہے اور تجربے کے ساتھ آپ کی صلاحیت بہتر ہوتی جاتی ہے۔ اداکاری میں بھی یہی بات لاگو ہوتی ہے۔ آپ کو باقاعدہ تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے اور پھر تجربے کے ساتھ آپ ایک بہتر اداکار بنتے ہیں۔ طیارہ اڑانا سیکھنے میں بھی تربیت کے کئی مراحل ہوتے ہیں اور اس میں کافی وقت لگتا ہے۔ اسی طرح اداکاری میں بھی مسلسل سیکھتے رہنا ضروری ہے۔ میں اب زیادہ سے زیادہ مواقع تلاش کر رہا ہوں، تاکہ مختلف کردار ادا کر سکوں اور ایک اداکار کے طور پر خود کو بہتر بنا سکوں۔
سوال: فلم کی شوٹنگ کے دوران ایسا کون سا لمحہ تھا جسے آپ ہمیشہ یاد رکھیں گے؟
جواب: فضائیہ کی یونیفارم پہننا ہی میرے لیے فخر اور اعزاز کا لمحہ تھا۔ یہ ایک فوجی کی وردی ہے اور میرے لیے یہ بہت ذاتی بھی ہے، کیونکہ میرے والد خود ہندوستانی فضائیہ کے انتہائی معزز اور ممتاز فائٹر پائلٹ رہے ہیں۔ انہوں نے ’میراج 2000‘ کو فرانس سے ہندوستان لا کر 1985 میں ہندوستانی فضائیہ میں شامل کرانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے ’آپریشن سفید ساگر‘ میں بھی حصہ لیا تھا۔ اس لیے ان جیسی وردی پہننا میرے لیے بہت فخر کی بات تھی۔
دوسرا خاص لمحہ میرے اداکاری کے استاد عادل حسین سر کے ساتھ کام کرنا تھا۔ میں نے ان کے ساتھ اپنی پہلی ایکٹنگ ورکشاپ کی تھی۔ جب میں نے انہیں فون کرکے بتایا کہ میں ’آپریشن سفید ساگر‘ کر رہا ہوں تو انہوں نے کہا کہ وہ بھی اس پروجیکٹ کا حصہ ہیں۔ جب ہم پہلی بار سیٹ پر ساتھ تھے اور وہ بھی فضائیہ کے ایک سینئر افسر کی وردی میں تھے تو ان کے ساتھ سیٹ اور اسکرین شیئر کرنا میرے لیے بہت خوش قسمتی کی بات تھی۔ ان سے سیٹ پر بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
سوال: تقریباً 8,000 گھنٹے پرواز کرنے کے بعد کیمرے کے سامنے کھڑے ہونا کتنا مختلف تجربہ ہے؟
جواب: مجھے بہت مزہ آیا۔ بطور پائلٹ میں ہمیشہ مسافروں کے ساتھ بات چیت کرتا تھا۔ ایئر لائن میں کام کرتے ہوئے اگر کوئی تاخیر ہوتی تھی یا کوئی مسئلہ پیش آتا تھا تو مسافروں کو درست معلومات دینا میری ذمہ داری ہوتی تھی۔ میں نے کئی سال اس ملازمت کو بہت انجوائے کیا اور مسافروں کے ساتھ کافی گفتگو کرتا تھا۔ شاید اسی وجہ سے کیمرے کے سامنے مجھے کوئی خوف محسوس نہیں ہوا۔ جب آپ کیمرے کے سامنے کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں تو میرے پائلٹ کے تجربے نے مجھے کہیں نہ کہیں یہ اعتماد دیا کہ میں اسے آسانی سے کر سکتا ہوں۔ میں نے خود کو بہت آرام دہ محسوس کیا۔ ایسا لگا جیسے میں طیارے کا کپتان ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ ہر کردار، خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، اپنی جگہ اہم ہوتا ہے۔ اس لیے میں نے اپنے کردار کو اسی اعتماد کے ساتھ ادا کیا۔
سوال: کیا آئندہ بھی آپ اداکاری کے ساتھ ایوی ایشن سے اپنا تعلق برقرار رکھنا چاہیں گے؟
جواب: بالکل۔ فی الحال میں اداکاری میں پوری طرح مصروف ہوں، کیونکہ میرا ایک اصول ہے کہ جو بھی کام کرو، اس میں 200 فیصد دو۔ میں نے اپنی ملازمت اس لیے چھوڑی تھی تاکہ اداکاری کو اپنا پورا وقت، توجہ اور محنت دے سکوں۔ اس وقت میں ایک اچھی اور اعلیٰ پوزیشن پر تھا اور میرا کیریئر بھی بہت اچھا چل رہا تھا، لیکن میں نے اداکاری کو مکمل موقع دینے کا فیصلہ کیا۔
تاہم طیاروں سے میرا تعلق ہمیشہ برقرار رہے گا۔ میں پائلٹس کی تیسری نسل سے ہوں۔ میرے دادا پائلٹ تھے، میرے والد پائلٹ تھے اور میں بھی پائلٹ ہوں۔ اس لیے طیارے ہمیشہ میری زندگی کا حصہ رہیں گے۔ ایشور نے چاہا تو ایک دن اپنا طیارہ خرید کر اسے اڑانے کا خواب بھی ضرور پورا کروں گا۔ اداکاری اور طیاروں، دونوں سے میرا تعلق ہمیشہ قائم رہے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ