
شملہ، 15 اگست (ہ س)۔ ہماچل پردیش میں اگلے چند دنوں تک مانسون کے پوری طرح فعال رہنے کے امکانات ہیں اور محکمہ موسمیات نے 21 اگست تک ریاست کے مختلف حصوں میں شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ کے مطابق 17 اور 18 اگست کو سب سے زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر کئی اضلاع کے لیے شدید سے بہت شدید بارش کا اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ مسلسل بارش کے باعث ریاست میں زمین کے تودے کھسکنے اور ملبہ گرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ہفتہ کی شام تک 103 سڑکیں بند تھیں، 221 پینے کے پانی کی اسکیمیں متاثر تھیں اور 46 بجلی کے ٹرانسفارمر بند پڑے تھے۔ مانسون کے موسم میں اب تک سرکاری املاک کو 972 کروڑ روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے لوگوں کو دریاؤں اور نالوں کے کنارے نہ جانے، زمین کے تودے کھسکنے کے ممکنہ علاقوں میں خاص احتیاط برتنے اور خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ محکمہ کے مطابق 16 اگست کو بلاسپور، کانگڑا اور منڈی اضلاع میں شدید بارش کا ایلو الرٹ رہے گا۔ 17 اگست کو بلاسپور، چمبا، کانگڑا، منڈی اور سرمور اضلاع میں شدید سے بہت شدید بارش کا اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اسی دن اونا، ہمیرپور، کلو، شملہ، سولن اور لاہول اسپیتی میں یلو الرٹ رہے گا۔ 18 اگست کو اونا، ہمیرپور، چمبا، کانگڑا اور منڈی اضلاع کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے، جبکہ بلاسپور، کلو، شملہ، سولن، سرمور اور لاہول اسپیتی میں یلو الرٹ رہے گا۔ 19 اگست کو چمبا اور کانگڑا اضلاع میں شدید بارش کا یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ 20 اور 21 اگست کو بھی ریاست کے کئی حصوں میں شدید بارش کا امکان برقرار ہے۔
ہفتہ کو بھی ریاست کے کچھ علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش ریکارڈ کی گئی۔ شملہ میں رات اور صبح کے وقت اچھی بارش ہوئی۔ سرمور ضلع کے گیری-جتون ڈیم سے ایک بار پھر پانی چھوڑا گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ 131 ملی میٹر بارش کانگڑا ضلع کے گولیر میں ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ کانگڑا کے گگل اور ہمیرپور کے نادون میں 100 ملی میٹر بارش ہوئی۔ منڈی کے سلاپڑ میں 70 ملی میٹر، ہمیرپور کے بھڑاری میں 60 ملی میٹر، اونا کے ننگل ڈیم، ہمیرپور اور کانگڑا کے نگرکوٹ سوریان میں 50 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
مسلسل بارش کے باعث سڑکوں اور دیگر بنیادی خدمات کو بحال کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی ہفتہ کی شام جاری رپورٹ کے مطابق ریاست میں 103 سڑکیں بند ہیں۔ ان میں منڈی ضلع میں سب سے زیادہ 43 سڑکیں بند ہیں، جبکہ کلو میں 32، چمبا میں آٹھ اور شملہ میں پانچ سڑکیں بند ہیں۔ ریاست میں پینے کے پانی کی 221 اسکیمیں متاثر ہیں۔ ان میں صرف منڈی ضلع کی 209 اسکیمیں شامل ہیں، جس سے تھوناگ، کارسوگ، بگی، منڈی، پدھر اور سندر نگر سب ڈویژنوں میں پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کے 46 ٹرانسفارمر بھی بند پڑے ہیں۔ منڈی ضلع کے گوہر اور جوگندر نگر علاقوں میں 39 ٹرانسفارمر متاثر ہیں، جبکہ شملہ ضلع کے رامپور اور چوپال میں پانچ اور منالی علاقے میں دو ٹرانسفارمر بند ہیں۔
ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق 30 جون سے شروع ہوئے موجودہ مانسون سیزن کے دوران بارش سے متعلق مختلف واقعات میں اب تک 183 افراد کی جان جا چکی ہے۔ اس مدت میں 83 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں، جبکہ 303 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ 14 دکانیں اور 260 مویشی خانے بھی متاثر یا تباہ ہوئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مانسون کے باعث سرکاری املاک کو اب تک 972 کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد