
نئی دہلی، 15 اگست (ہ س)۔
مرکزی حکومت نے پٹرول، ڈیزل اور ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی برآمد پر عائد غیر متوقع منافع ٹیکس (ونڈ فال ٹیکس) میں کمی کی ہے۔ نئی شرحیں 14 اگست سے نافذ ہو گئی ہیں۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی برآمد پر ٹیکس مکمل طور پر ختم یعنی صفر کر دیا گیا ہے، جبکہ ڈیزل اور جیٹ فیول پر عائد ڈیوٹی میں بھی کمی کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی برآمد پر خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی کی شرح اب 25.5 روپے فی لیٹر سے کم کرکے 24 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
وہیں ہوائی جہاز کے ایندھن کی برآمد پر ایس اے ای ڈی (ایس اے ای ڈی) کو پہلے کی 22 روپے فی لیٹر کی شرح کے مقابلے میں کم کرکے 19.5 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ پٹرول کی برآمد پر عائد ڈیوٹی کو کم کرکے صفر کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہ ڈیوٹی 3.5 روپے فی لیٹر تھی۔
وزارت خزانہ نے جاری نوٹیفکیشن میں کہا کہ ڈیوٹی میں کی گئی ترمیم 14 اگست سے نافذ ہوگی۔ وزارت نے کہا کہ ملکی کھپت کے لیے پٹرول اور ڈیزل پر موجودہ ڈیوٹی کی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری موجودہ بحران کے درمیان ملک میں ایندھن کی دستیابی بڑھانے کے لیے ونڈ فال ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان حکومت نے 27 مارچ کو ڈیزل اور اے ٹی ایف پر برآمدی ڈیوٹی عائد کی تھی۔ پٹرول کی برآمد پر بھی 16 مئی سے یہ ڈیوٹی عائد کی گئی تھی۔ حکومت کی جانب سے ہر پندرہ دن بعد اس کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ