
نئی دہلی، 15 اگست (ہ س)۔ یومِ آزادی کے موقع پر دہلی واقع کانگریس کے نئے صدر دفتر اندرا بھون میں منعقدہ پرچم کشائی کی تقریب کے دوران مکمل قومی گیت ’وندے ماترم‘ بجائے جانے کے وقت کانگریس کے اعلیٰ رہنما قدرے بے چین نظر آئے۔ تقریب میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کے کئی سینئر رہنما موجود تھے۔ ’وندے ماترم‘ کے مکمل ورژن کی پیشکش کے دوران کچھ دیر بعد کانگریس کے سینئر رہنماؤں کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے دیکھے جانے پر بی جے پی کے جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش نے سوال اٹھایا۔ تاہم کانگریس نے اس معاملے کو لے کر کسی بھی قسم کے تنازعہ سے انکار کیا ہے۔
تقریب کے دوران ’وندے ماترم‘ کے ابتدائی تقریباً 55 سیکنڈ تک کانگریس کے سینئر رہنما گیت کے ساتھ کھڑے دکھائی دیے، لیکن اس کے بعد بھی گیت جاری رہنے پر راہل گاندھی، سونیا گاندھی اور کھڑگے سمیت کچھ رہنما آپس میں گفتگو کرتے نظر آئے۔ کھڑگے اور سونیا گاندھی کے درمیان بھی بات چیت ہوتی دکھائی دی۔ اس کے بعد دونوں رہنماؤں نے کانگریس کے ایک کارکن کو بلا کر اس سے کچھ کہا۔ اس دوران سونیا گاندھی سر ہلاتی ہوئی نظر آئیں۔
تقریب میں ’وندے ماترم‘ تقریباً تین منٹ تک بجایا گیا۔ اس کے بعد پرچم کشائی کی گئی اور پھر ’وجئی وشو ترنگا پیارا‘ گیت گایا گیا۔
اس واقعے کو لے کر بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) بی ایل سنتوش نے کانگریس صدر دفتر میں مکمل ’وندے ماترم‘ بجائے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی۔ انہوں نے لکھا، ’’ماں، بیٹا اور قومی صدر، لگتا ہے کہ ’وندے ماترم‘ کا مکمل ورژن بجائے جانے سے پریشان ہیں۔ کچھ ذہنیتیں 1947 سے پہلے سے لے کر 1947 کے بعد تک کبھی نہیں بدلیں۔‘‘
بی جے پی رہنما کے تبصرے کے بعد صحافیوں نے کانگریس رہنماؤں سے اس معاملے پر سوالات کیے۔ اس پر کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اور میڈیا شعبہ کے سربراہ پون کھیڑا نے کہا کہ ’وندے ماترم‘ قومی گیت ہے اور کانگریس کی تقریبات میں اسے گائے جانے کی روایت پرانی ہے۔ اکتوبر 1937 میں کلکتہ میں منعقدہ کانگریس اجلاس کے دوران مہاتما گاندھی سمیت کانگریس کے اہم رہنماؤں نے طے کیا تھا کہ پارٹی کی تقریبات میں ’وندے ماترم‘ گایا جائے گا۔
کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے صحافیوں کے سوال پر کہا کہ کانگریس ہیڈکوارٹر میں مکمل ’وندے ماترم‘ گایا گیا اور اس میں تنازعہ کی کوئی بات نہیں ہے۔ کسی نے گیت کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ رمیش نے رہنماؤں کے مبینہ طور پر بے چین ہونے کے حوالے سے کہا کہ کانگریس صدر کھڑگے کافی دیر سے کھڑے تھے اور سونیا گاندھی کہہ رہی تھیں کہ ان کے لیے کرسی لا کر رکھ دی جائے۔ یہی وجہ تھی کہ دونوں کے درمیان گفتگو ہوئی۔ جب صحافیوں نے کیرالہ میں ’وندے ماترم‘ نہ گائے جانے کے حوالے سے سوال کیا تو رمیش نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
جے رام رمیش نے ’وندے ماترم‘ کی تاریخ کے بارے میں بتایا کہ 28 اکتوبر 1937 کو کلکتہ میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں ’وندے ماترم‘ کو لے کر بحث ہوئی تھی۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے مشورہ دیا تھا کہ کانگریس کی میٹنگوں میں اس کے صرف ابتدائی حصے گائے جائیں۔
قابل ذکر ہے کہ ’وندے ماترم‘ کے معاملہ پر کانگریس کی تاریخی پالیسی کا تعلق 1937 میں ہونے والی بحثوں سے جوڑا جاتا ہے۔ اس وقت کانگریس نے رابندر ناتھ ٹیگور سے گیت کے حوالے سے مشورہ لیا تھا۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق، ٹیگور نے تجویز دی تھی کہ اس کے ابتدائی دو بندوں کو ہی قومی گیت کے طور پر استعمال کیا جائے، کیونکہ ان میں مادرِ وطن کی خوبصورتی کا بیان ہے، جبکہ بعد کے بند میں دیوی درگا کا آہوان ہونے کی وجہ سے کچھ طبقات کو اعتراض ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد کانگریس کی تقریبات میں ’وندے ماترم‘ کے ابتدائی دو بند گانے کی روایت رہی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد