بلوچستان میں قومی شاہراہ اور پولیس اسٹیشن دھماکوں میں تباہ، دو خواتین کا قتل
اسلام آباد، 15 اگست (ہ س)۔ پاکستان کے یوم آزادی کے دن جمعرات کو بلوچستان کے کئی اضلاع میں بدامنی کا ماحول رہا۔ کوئٹہ میں 14 اگست کی تقریبات متاثر ہوئیں۔ بولن ضلع میں قومی شاہراہ پر ایک پل کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ ہرنائی میں دھماکہ خیز مواد کے ذر
بلوچستان میں قومی شاہراہ اور پولیس اسٹیشن دھماکوں میں تباہ، دو خواتین کا قتل


اسلام آباد، 15 اگست (ہ س)۔

پاکستان کے یوم آزادی کے دن جمعرات کو بلوچستان کے کئی اضلاع میں بدامنی کا ماحول رہا۔ کوئٹہ میں 14 اگست کی تقریبات متاثر ہوئیں۔ بولن ضلع میں قومی شاہراہ پر ایک پل کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ ہرنائی میں دھماکہ خیز مواد کے ذریعے ایک پولیس اسٹیشن کو تباہ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ دو خواتین کو گھر میں گھس کر قتل کر دیا گیا۔

دی بلوچستان پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ کی ایگریکلچر کالونی میں 14 اگست کو جاری تقریبات کے دوران نامعلوم افراد نے راکٹ اور گرینیڈ داغے۔ اس دوران علاقے میں تقریباً آٹھ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ حملے کے وقت کاو¿نٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے بڑی تعداد میں اہلکار موجود تھے۔

اس کے علاوہ بولن ضلع میں نیشنل ہائی وے-65 پر پل کے قریب زوردار دھماکے کے بعد ٹریفک کچھ دیر کے لیے روک دی گئی۔ ان واقعات کی ذمہ داری ابھی تک کسی تنظیم یا گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نوشکی ضلع کے کِل منگل علاقے میں مسلح افراد نے ماں اور بیٹی کو قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق مشتبہ افراد گزشتہ رات گھر میں داخل ہوئے اور دونوں خواتین کو گولی مار دی۔ مقتولین کی شناخت علی احمد محمد حسنی کی اہلیہ بی بی حنیفہ اور علی احمد کی بیٹی حفصہ کے طور پر ہوئی ہے۔ قاتلوں کی تلاش جاری ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande