
سات مزدوروں کی موت، تین کی تلاش جاری
دہرادون، 14 اگست (ہ س)۔
اتراکھنڈ کے چمولی ضلع کے پیپل کوٹی میں وشنوگاد-پیپل کوٹی پن بجلی منصوبے کی زیرِ تعمیر ٹیل ریس ٹنل میں پانی اور ملبہ بھر جانے کے باعث پیش آنے والے حادثے میں سات مزدوروں کی موت ہو گئی، جبکہ تین اب بھی لاپتہ ہیں۔ حادثے کے بعد 12 مزدوروں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ راحت اور بچاو¿ کا کام جمعہ کو بھی دن بھر جنگی پیمانے پر جاری رہا۔ وزیر اعلیٰ نے حکام سے ریسکیو آپریشن کی پیش رفت کی معلومات لیتے ہوئے کہا کہ ہر مزدور کی جان انتہائی قیمتی ہے اور تمام مزدوروں کو بحفاظت باہر نکالنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
حادثہ جمعرات کی شام ٹنل کے ٹی آر ٹی فیز-II میں پیش آیا، جب اچانک بڑی مقدار میں پانی اور ملبہ سرنگ کے اندر داخل ہو گیا۔ واقعے کے وقت ہندوستان کنسٹرکشن کمپنی (ایچ سی سی) کے مزدور ٹنل میں کام کر رہے تھے۔ اچانک پانی اور ملبہ آنے سے مزدور اندر پھنس گئے۔ بچاو¿ مہم میں این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، ضلعی انتظامیہ، پولیس، سی آئی ایس ایف اور دیگر ایجنسیوں کی ٹیمیں مصروف ہیں۔
ریسکیو آپریشن کے دوران ٹنل سے پانی اور ملبہ نکالنے اور امدادی ٹیموں کی محفوظ آمدورفت کے لیے مختلف آلات نصب کیے گئے ہیں۔ ٹنل کے اندر پانی کی سطح اور ملبہ بچاو¿ کے کام میں چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ امدادی ٹیمیں لاپتہ تین مزدوروں تک پہنچنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہیں۔ حکام کے مطابق ٹنل میں پھنسے 22 مزدوروں میں سے 19 کو باہر نکالا جا چکا ہے، جن میں سے سات کی اسپتال میں موت ہو گئی۔ باقی تین مزدوروں کی تلاش جاری ہے۔
ریسکیو آپریشن میں فوج کی ہیومینیٹیرین اسسٹنس اینڈ ڈیزاسٹر ریلیف (ایچ اے ڈی آر) ٹیم کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ جوشی مٹھ سے پہنچی فوج کی ٹیم میں افسران، جونیئر کمیشنڈ افسران (جے سی اوز)، جوانوں کے علاوہ تربیت یافتہ کے-9 دستہ اور طبی ٹیم بھی شامل ہے۔ ٹیم نے ٹنل کے اندر جا کر صورتحال کا جائزہ لیا اور بچاو¿ کے کام میں تعاون کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ