روس سے لڑنے کے لیے یوکرین افریقیوں کو تربیت دے کر بھرتی کر رہا ہے
بن غازی (لیبیا)، 14 اگست ( ہ س / آر آئی اے نووستی)۔ لیبیاکے مشرقی حصے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک ذریعے کے مطابق، یوکرین افریقی ممالک کے شہریوں کو روس کے خلاف استعمال کرنے کی تربیت دے رہا ہے۔ تربیت کے بعد انہیں بھرتی کر لیا جاتا ہے۔ اس س
Ukraine-African-fighters-


بن غازی (لیبیا)، 14 اگست ( ہ س / آر آئی اے نووستی)۔ لیبیاکے مشرقی حصے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک ذریعے کے مطابق، یوکرین افریقی ممالک کے شہریوں کو روس کے خلاف استعمال کرنے کی تربیت دے رہا ہے۔ تربیت کے بعد انہیں بھرتی کر لیا جاتا ہے۔

اس سے قبل لیبیا کے میڈیا میں ایک سوڈانی کارکن کا بیان جاری کیاگیا تھا، جس میں کہا گیا کہ سوڈان اور دیگر افریقی ممالک کے شہریوں کو سکیورٹی اہلکاروں کے طور پر کام کرنے کی آڑ میں لیبیا میں بھرتی کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انہیں جبری فوجی تربیت دی جاتی ہے اور یوکرین اور مالی میں لڑنے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ”سوڈانی صحافی کی یہ معلومات کوئی راز نہیں ہیں۔ درحقیقت تاجورا اور دارالحکومت طرابلس کے ایئرپورٹ روڈ کے علاقے میں تربیتی مراکز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ات تکبالی میں بھی ایسا ہی ایک مرکز موجود ہے۔ ان مقامات پر یوکرین کے ماہرین تعینات ہیں، جنہوں نے تربیتی پروگراموں اورطور- طریقوں کو تیار کرنے میں حصہ لیا اور ڈرون حملے کے استعمال کے اپنے تجربات کا اشتراک کیا۔“

ذرائع کے مطابق، تربیت یافتہ جنگجو افریقہ میں روس کے مفادات اور یوکرین، دونوں کے خلاف کیا جا سکتا ہے ۔ اس وقت لیبیا میں دو حکومتیں ہیں جو ایک دوسرے کو تسلیم نہیں کرتیں۔ پہلی حکومت طرابلس میں ہے،جسے اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے اور اس کی قیادت عبدالحمید دبیبہ کر رہے ہیں۔ ملک کے مشرقی حصے میں اسامہ حماد کی قیادت میں پارلیمنٹ کی حمایت یافتہ حکومت کام کر رہی ہے۔ اسے خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیا کی قومی فوج کی حمایت حاصل ہے۔

یہ دوہری طاقت کا ڈھانچہ مارچ 2011 کے واقعات کے نتیجے میں پیدا ہوا، جب نیٹو ممالک نے مسلح باغیوں کی حمایت کرتے ہوئے لیبیا پر حملے شروع کر دیے۔ دونوں فریق فوج اور دیگر سرکاری اداروں کو متحد کرنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande