
ناندیڑ حملے کے بعد سکھبیر سنگھ بادل اسپتال سے ڈسچارج، کہا۔ نہ پہلے ڈرا تھا نہ اب ڈرتا ہوں۔ شرومنی اکالی دل پنجاب کے امن بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے پابند عہد ہے بادلناندیڑ، ممبئی ، 14 اگست (ہ س)۔ مہاراشٹر کے ناندیڑ میں واقع تخت سچکھنڈ سری حضور صاحب گوردوارہ میں جمعرات کو حملے کے بعد پنجاب کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور شرومنی اکالی دل کے صدر سکھبیر سنگھ بادل کو جمعہ کو اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔ اسپتال سے باہر آنے کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ نہ پہلے کبھی ڈرے تھے اور نہ اب ڈرتے ہیں۔بادل نے کہا کہ کچھ لوگوں کا مقصد پنجاب کے حالات پر کنٹرول حاصل کرنا اور ریاست کے امن کو خراب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرومنی اکالی دل پنجاب کے بھائی چارے، وقار اور فرقہ وارانہ و مذہبی ہم آہنگی کے لیے پوری طرح پابند عہد ہے۔ ان کے مطابق پنجاب کی ترقی اور سماجی و مذہبی ہم آہنگی پارٹی کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے اکالی دل کسی بھی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران ان پر دو مرتبہ انتہائی مقدس مذہبی مقامات پر حملے کیے گئے، لیکن وہ ان واقعات سے خوف زدہ نہیں ہوئے۔ بادل نے واضح کیا کہ وہ پہلے بھی نہیں ڈرے تھے اور اب بھی نہیں ڈرتے۔کرپان سے کیا گیا تھا حملہ: ناندیڑ کے تخت سچکھنڈ سری حضور صاحب گوردوارہ کے قریب سکھبیر سنگھ بادل پر کرپان سے حملہ کیا گیا تھا۔ ان کے میڈیا مشیر ریاست دیپ کے مطابق، گوردوارہ ماتا صاحب دیوان جی مکت کے احاطے سے باہر نکلتے وقت چرن کمل کے قریب ان کے ساتھ چلنے والے ایک شخص نے اچانک کرپان سے حملہ کردیا۔ مذکورہ شخص نہنگ کے لباس میں تھا۔ حملے میں بادل کے ہاتھ پر چوٹ آئی تھی۔ انہیں فوری طور پر علاج کے لیے یشوسائی اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کے ہاتھ کی سرجری کی گئی اور ٹانکے لگائے گئے۔ علاج مکمل ہونے کے بعد جمعہ کو انہیں اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔دو برس میں دوسرا حملہ : سکھبیر سنگھ بادل کو زیڈ پلس سکیورٹی حاصل ہے۔ گزشتہ دو برس کے دوران ان پر یہ دوسرا حملہ بتایا جارہا ہے۔ اس سے قبل چار دسمبر دو ہزار چوبیس کو امرتسر کے سری ہری مندر صاحب کے احاطے کے باہر بھی ان پر حملہ کیا گیا تھا۔ اس وقت بادل سری اکال تخت کے حکم کے تحت گوردوارہ احاطے کے مرکزی دروازے پر سیوادار کی مذہبی سزا پوری کررہے تھے۔ اسی دوران ان پر فائرنگ کی کوشش کی گئی تھی، تاہم وہ محفوظ رہے تھے۔ناندیڑ میں تازہ حملے کے بعد سکھبیر سنگھ بادل کی سکیورٹی اور مذہبی مقامات پر حفاظتی انتظامات کو لے کر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ پولیس اور متعلقہ سکیورٹی ایجنسیاں معاملے کی تفتیش کررہی ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حملے کی اصل وجہ اور ملزم کی نیت کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے