
نئی دہلی، 14 اگست (ہ س)۔
صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعہ کو کہا کہ پبلک امتحانات طلبہ کے لیے مواقع کے دروازے کھولتے ہیں اور حکومت امتحانی نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کر رہی ہے، تاکہ بد عنوان ذرائع پر مکمل طور پر قابو پایا جا سکے اور امتحانی نظام کو زیادہ شفاف، محفوظ اور نوجوانوں کے لیے قابلِ اعتماد بنایا جا سکے۔
80ویں یومِ آزادی کی قبل شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ طلبہ ہندوستان کے مستقبل کے معمار ہیں۔ جس طرح قومی سلامتی کے لیے حکومت اور معاشرے کا متحد ہونا ضروری ہے، اسی طرح طلبہ کے حال اور مستقبل کے تحفظ کے لیے بھی سب کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوششوں اور نئی معاشی سرگرمیوں کے نتیجے میں نوجوانوں کے لیے مختلف شعبوں میں روزگار اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ نوجوانوں کو ان مواقع کے بارے میں معلومات حاصل کرکے کامیابی کی نئی راہیں تلاش کرنی چاہئیں۔ انہوں نے نوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو ملک کے مستقبل کی بنیاد قرار دیتے ہوئے خاندان اور معاشرے سے ان کی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی اپیل کی۔
مرمو نے کہا کہ کھیلوں کو نوجوانوں کی ترقی اور قومی تعمیر کے وسیلے کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ ’کھیلو انڈیا‘ پروگرام کے تحت مقامی سطح سے قومی سطح تک ملک کے مختلف علاقوں میں کھیلوں کے لیے ضروری نظام تیار کیا جا رہا ہے۔ حکومت کھیلوں کے فروغ کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے، جس کے مثبت نتائج بین الاقوامی مقابلوں میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی کامیابیوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں بیٹیوں کی شاندار کارکردگی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار میں تعاون کرنے والی ’ڈرون دیدی‘ سے لے کر فضائیہ میں ’فائٹر کامبیٹ لیڈر‘ بننے تک خواتین کی شمولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ گلاسگو میں حال ہی میں اختتام پذیر دولتِ مشترکہ کھیلوں میں ہندوستان کے 13 طلائی تمغوں میں سے آٹھ بیٹیوں نے جیتے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ خود امدادی گروپوں سے 10 کروڑ سے زیادہ خواتین وابستہ ہیں اور تین کروڑ خواتین کو ’لکھ پتی دیدی‘ بنانے کا ہدف حاصل کیا جا چکا ہے۔ اب ملک مزید تین کروڑ خواتین کو نئی ’لکھ پتی دیدی‘ بنانے کے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مدرا یوجنا سے فائدہ اٹھانے والے کاروباری افراد میں تقریباً دو تہائی خواتین ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی خود کفالت کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں ان کی قیادت بھی بڑھ رہی ہے۔ سال 2023 میں منظور کیے گئے ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ کے ذریعے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد نشستیں محفوظ رکھنے کی شق کی گئی ہے۔ اس سے جمہوریت مزید جامع ہوگی۔
مرمو نے کہا کہ ملک کی تقریباً 65 فیصد آبادی 35 سال سے کم عمر کی ہے اور یہ نوجوان طاقت ہندوستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ نوجوان کاروباری افراد کی شرکت سے ایک مضبوط اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام تیار ہوا ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیت، ہنر اور جدت ہندوستان کے روشن مستقبل کے تئیں ان کے اعتماد کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے بزرگ شہریوں کے تئیں حساسیت کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 70 سال اور اس سے زیادہ عمر کے تقریباً چھ کروڑ بزرگ شہریوں کے لیے ہر سال پانچ لاکھ روپے تک کی مفت طبی سہولت دستیاب ہے۔ بزرگ شہریوں کے وقار اور اپنائیت کے احساس کو برقرار رکھنا پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ