
نئی دہلی، 14 اگست (ہ س)۔
صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعہ کو طلباءکو ملک کے مستقبل کا معمار قرار دیتے ہوئے پبلک امتحانات کو شفاف، محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ امتحانات میں غیر شفاف ذرائع پر مکمل طور پر روک لگائی جائے اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا بہترموقع ملے۔
صدرِ جمہوریہ نے ملک کے 80ویں یومِ آزادی کی قبل شام قوم سے خطاب میں 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر، نوجوان طاقت، خواتین کو بااختیار بنانے، غریبوں اور محروم طبقات کی فلاح، ڈیجیٹل اور مادی بنیادی ڈھانچے، اقتصادی ترقی، ماحولیاتی تحفظ، خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی سمیت ملک کے ترقیاتی سفر کے مختلف پہلوو¿ں کو اجاگر کیا۔ صدرِ جمہوریہ کے خطاب سے قبل ’وندے ماترم‘ بجایا گیا، جو تاریخ میں پہلی بار ہوا۔ اس کے بعد قومی ترانہ ’جن گن من‘ پیش کیا گیا۔
انہوں نے کہا، ”ہمارے طلباءہندوستان کے مستقبل کے معمار ہیں۔“ جس طرح قومی سلامتی کے لیے حکومت اور معاشرے کا متحد رہنا ضروری ہے، اسی طرح طلباءکے حال اور مستقبل کے تحفظ کے لیے بھی سب کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ عوامی امتحانات طلبہ کے لیے مواقع کے دروازے کھولتے ہیں، اس لیے حکومت ان امتحانات میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کر رہی ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد امتحانی نظام کو شفاف بنانے کے ساتھ ساتھ اسے نوجوانوں کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ ملک کی مجموعی آبادی میں تقریباً 65 فیصد افراد 35 سال سے کم عمر کے ہیں اور یہ نوجوان آبادی ہندوستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی نوجوان باصلاحیت، پرعزم اور ہنرمند ہیں اور مسائل کے حل کے لیے اختراعی اور عملی طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے محض 28 سال کی اوسط عمر والی ایک نوجوان ٹیم کی جانب سے حال ہی میں راکٹ کی کامیاب لانچنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خلائی تحقیق کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان خود روزگار کے ساتھ ساتھ دوسروں کو روزگار فراہم کرنے کی ثقافت بھی اپنا رہے ہیں اور ان کی کوششوں سے ملک میں ایک مضبوط اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام تیار ہوا ہے۔ دنیا کی بڑی کمپنیاں بھی ہندوستانی نوجوانوں کی صلاحیت اور محنت سے متاثر ہو کر انہیں قیادت کے عہدے دے رہی ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے تعلیم، زراعت، دفاع، کھیل اور کاروبار سمیت مختلف شعبوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ڈرون دیدی‘ سے لے کر فضائیہ میں ’فائٹر کامبیٹ لیڈر‘ بننے تک خواتین نئے شعبوں میں اپنی شناخت قائم کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خود امدادی گروپوں سے 10 کروڑ سے زیادہ خواتین وابستہ ہیں اور تین کروڑ خواتین کو ’لکھ پتی دیدی‘ بنانے کا ہدف حاصل کیا جا چکا ہے۔ اب مزید تین کروڑ خواتین کو نئی ’لکھ پتی دیدی‘ بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مدرا یوجنا سے فائدہ اٹھانے والے کاروباری افراد میں تقریباً دو تہائی خواتین ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ خواتین کی بڑھتی ہوئی ووٹنگ میں شرکت ہندوستانی جمہوریت کی ایک نمایاں کامیابی ہے۔ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد نمائندگی یقینی بنانے کے لیے 2023 میں ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ منظور کیا گیا ہے۔
صدرِ جمہوریہ نے گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں جامع ترقی کی رفتار تیز ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو غربت سے نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پردھان منتری جن دھن یوجنا کے تحت تقریباً 59 کروڑ کھاتہ دار بینکاری نظام سے منسلک ہیں، جن میں 32 کروڑ سے زیادہ خواتین ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 80 کروڑ لوگوں کے لیے مفت راشن کی فراہمی کے ذریعے غذائی تحفظ یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے تحت تقریباً 60 کروڑ لوگوں کو ہر سال پانچ لاکھ روپے تک کی مفت طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ کسان سمان ندھی اور کسان کریڈٹ کارڈ سے زراعت کے ساتھ ڈیری، مرغی پالنے، ماہی گیری اور شہد کی مکھیوں کی پرورش جیسی سرگرمیوں سے وابستہ کسانوں کو بھی مدد ملی ہے۔
مرمو نے ہندوستان کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو ملک کی بڑی کامیابیوں میں شامل کرتے ہوئے کہا کہ گاو¿ں کی چھوٹی دکانوں اور ریڑھی پٹری والوں تک بھی ڈیجیٹل ادائیگی پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہونے والے ریئل ٹائم ڈیجیٹل لین دین میں ہندوستان کا حصہ نصف سے زیادہ ہے۔
انہوں نے شاہراہوں، آبی گزرگاہوں، ریلوے اور فضائی رابطے کے پھیلاو¿ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جدید بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے نئے کاروباری مواقع، روزگار اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ دنیا کے کئی حصوں میں جنگ اور عدم استحکام کے باوجود ہندوستانی معیشت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اقتصادی اندازوں کے مطابق ہندوستان کی ترقی کی شرح دنیا کی اوسط ترقی کی شرح کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’آتم نربھر بھارت‘ مہم نے اقتصادی ترقی اور قومی سلامتی کی بنیاد کو مضبوط کیا ہے۔
انہوں نے قابلِ تجدید توانائی اور پائیدار ترقی کے شعبے میں ہندوستان کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ کو آنے والی نسلوں کے تئیں ذمہ داری قرار دیا۔ انہوں نے ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ اور ’لائف اسٹائل فار انوائرنمنٹ‘ جیسی مہمات کے مطابق لوگوں سے ماحول کے تحفظ کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوششیں کرنے کی اپیل کی۔
قومی سلامتی کے معاملے پر صدرِ جمہوریہ نے کارگل وجے دیوس اور آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے ہندوستانی مسلح افواج کی بہادری کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن سندور ہندوستانی افواج کی بے مثال صلاحیت کا ثبوت ہے اور دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ انہیں اپنےکرتوت کی سزا ملے گی۔
انہوں نے دہشت گردی کو تحفظ فراہم کرنے والے ملک کے ساتھ ماضی میں کیے گئے سندھ طاس آبی معاہدے کی معطلی کو ملک، بالخصوص کسانوں کے مفاد میں ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ کئی دہائیوں سے نکسل ازم ملک کے لیے ایک سنگین چیلنج تھا، لیکن ہندوستان کو نکسل ازم سے پاک بنانا ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکسل متاثرہ علاقوں میں اب جوش و خروش کا ماحول ہے اور ترقی کی لہر وہاں پہنچ رہی ہے۔ بستر اولمپکس اور بستر پنڈوم میں لوگوں کی بڑی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اسے تبدیلی کی علامت قرار دیا۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان آزادی کی صد سالہ سال 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔ انتودیہ کے جذبے کے ساتھ ترقی کے فوائد ہر فرد تک پہنچانا اس ہدف کا مرکز ہے۔ انہوں نے تحریکِ آزادی کے مجاہدین کو سلام پیش کرتے ہوئے مہاتما گاندھی اور ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکر کی خدمات کو یاد کیا۔
انہوں نے 14 اگست کو تقسیم کی ہولناکیوں کی یاد کے دن کے طور پر منائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے تقسیم کے تشدد میں مارے گئے اور نقل مکانی کے المیے سے دوچار لاکھوں لوگوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ آزادی کے وقت 550 سے زیادہ شاہی ریاستوں کے انضمام کے چیلنج کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو جدید ہندوستان کے اتحاد کا معمار قرار دیا۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی ملکی مفاد پر مبنی ہے اور امن، تعاون، مذاکرات اور ’وسودھیو کٹمبکم‘ اس کے اہم ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان گلوبل ساو¿تھ میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے اور قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام پر یقین رکھتا ہے۔ مختلف ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کثیرالجہتی اداروں میں عالمی برادری کی مناسب نمائندگی کی ضرورت پر زور دیا۔
صدرِ جمہوریہ نے ہندوستانی ثقافتی ورثے کو ملک کی روحانی طاقت قرار دیتے ہوئے مراٹھا فوجی روایت سے وابستہ 12 قلعوں کے یونیسکو کے عالمی ورثہ فہرست میں شامل ہونے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ورثے میں بھگوان بدھ سے وابستہ روحانی یادگاروں کے ساتھ اپنی شاندار روایات اور خود اعتمادی کے تحفظ کی فوجی صلاحیت کی علامتیں بھی موجود ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے تیلگو ادیب گرجاڈا اپا راو¿ کی سطروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کا مطلب صرف مٹی نہیں بلکہ پورا انسانی معاشرہ ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ معاشرے کی شرکت اور حکومت کی کوششوں سے گاو¿ں گاو¿ں، شہر شہر اور ملک کے ہر گھر میں رہنے والے لوگ صحت مند، خوشحال اور آسودہ ہوں گے۔
انہوں نے ملک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہمہ گیر حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ آزاد ہندوستان کو ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کی قومی جدوجہد میں خود کو وقف کریں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ