
ماسکو، 14 اگست (ہ س )۔
فرانس کے سابق صدر چارلس ڈی گال کے پوتے اور لیو ٹالسٹائی انٹرنیشنل پیس پرائز کی جیوری کے نائب چیئرمین پیئر ڈی گال نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر شرمندہ ہیں کہ فرانس نے منسک معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرکے فرانس نے اپنا وعدہ توڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین میں آج جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے تمام فریق پریشان ہیں۔ یہ معاہدہ 2014-15 میں طے پایا تھا، جس کے تحت متعدد اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس معاہدے میں روس، فرانس، جرمنی اور یوکرین شامل تھے اور اسے نارمنڈی فارمیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس معاہدے کا مقصد کیف انتظامیہ اور ڈونباس کے الگ ہونے والے مشرقی علاقوں کے درمیان مسلح تنازع ختم کرنا تھا۔ ماسکو نے کیف پر معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا، جس میں ڈونباس کو خود مختاری دینے سے انکار بھی شامل تھا۔
فروری 2023 میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعتراف کیا تھا کہ ان کا کبھی بھی منسک معاہدوں پر عمل درآمد کا ارادہ نہیں تھا۔ جرمنی کی سابق چانسلر انجیلا مرکل اور فرانس کے سابق صدر فرانسوا اولاند نے بھی اسی طرح کے بیانات دیے تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ