لیپ انڈیا نے سرمایہ کاروں کو مایوس کیا، اسٹاک مارکیٹ میں معمولی اضافے کے بعد گرے شیئر
نئی دہلی، 14 اگست(ہ س)۔ عالمی سرمایہ کاری فرم کے کے آر کی ملکیت والی کمپنی لیپ انڈیا لمیٹڈ کے حصص آج اسٹاک مارکیٹ میں مضبوط آغاز کرنے کے بعد فروخت کی وجہ سے گرگئے۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 159 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج یہ بی ایس ای
اسٹاک


نئی دہلی، 14 اگست(ہ س)۔ عالمی سرمایہ کاری فرم کے کے آر کی ملکیت والی کمپنی لیپ انڈیا لمیٹڈ کے حصص آج اسٹاک مارکیٹ میں مضبوط آغاز کرنے کے بعد فروخت کی وجہ سے گرگئے۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 159 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج یہ بی ایس ای پر 4.40 فیصد پریمیم کے ساتھ 166 روپے اور این ایس ای پر 4.34 فیصد پریمیم کے ساتھ 166 روپے پر درج ہوا۔لسٹنگ کے بعد، خریدکی حمایت سے اسٹاک 167 روپے کی سطح تک پہنچ گیا۔ تاہم منافع وصولی کی وجہ سے اس نے 146.25 روپے کی سطح پر غوطہ بھی لگایا۔ مارکیٹ میں مسلسل خرید و فروخت کے درمیان کمپنی کے حصص11:30 بجے تک148.20 روپے کی سطح پر تجارت کر رہے تھے۔ اب تک ٹریڈنگ میں، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو فی حصص10.80روپے یعنی10.80 فیصد کا نقصان ہوچکاتھا۔

کمپنی کا 2,480 کروڑ روپے کا آئی پی او 7 اور 11 اگست کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے اوسط ردعمل ملا، جس کی وجہ سے اسے مجموعی طور پر 8.82 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ ان میں اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص حصے کے 17.73 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اسی طرح، غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو 13.31 بار سبسکرائب کیا گیا۔ اس کے علاوہ، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو 1.81 گناسبسکرائب کیا گیا تھا۔

اس آئی پی او کے تحت 1 روپے کی فیس ویلیو والے کل 15,59,74,841 حصص جاری کیے گئے ہیں۔ اس میں سے تقریبا 480 ہزار کروڑ روپے مالیت کے 3,01,88,679 نئے حصص جاری کیے گئے ہیں، جبکہ تقریبا 2,000 کروڑ روپے مالیت کے 12,57,86,162حصص برائے فروخت ونڈو کے ذریعے فروخت کیے گئے ہیں۔ آئی پی او میں نئے حصص کی فروخت سے اکٹھا ہونے والی رقم کمپنی اپنے پرانے قرض کے بوجھ کو کم کرنے، ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔

لیپ انڈیا لمیٹڈ کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو، کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کردہ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مسودے میں کیے گئے دعوے کے مطابق، اس کی مالی صحت مضبوط ہے۔ مالی سال2023تا2024میں کمپنی کا خالص منافع 37.17 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال2024تا2025 میں بڑھ کر 37.56 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی دوران گزشتہ مالی سال2025تا2026 میں کمپنی کا خالص منافع بڑھ کر 62.34 کروڑ روپے ہو گیا۔

اس دوران کمپنی کی آمدنی کی وصولیابی میں مسلسل اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال2023تا2024 میں 371.94 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 485.03 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی دوران پچھلے مالی سال2025تا2026 میں کمپنی کو 747.36 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔

اس دوران کمپنی کے قرض بھی مسلسل بڑھتا گیا۔ مالی سال 2023تا2024کے اختتام پر کمپنی پر 513.07 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 801.66 کروڑ روپے ہو گیا۔ ساتھ ہی پچھلے مالی سال 2025تا2026 کی بات کریں تو اس مالی سال کے دوران کمپنی کا قرضہ بڑھ کر 1,017.73 کروڑ روپے ہو گیا۔

اس دوران کمپنی کے رزرو اور سرپلس میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024کے اختتام پر کمپنی کے رزرو اور سرپلس 521.84 کروڑ روپے تھے، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 606.09 کروڑ روپے ہو گئے۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس کم ہو کر 678.78 کروڑ روپے رہ گئے تھے۔

اس دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024 میں یہ 714.18 کروڑ روپے تھی، جو مالی سال2024تا2025میں بڑھ کر 917.35 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی کے ساتھ ہی گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کی مجموعی مالیت 1,006.33 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔

اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بیفور انٹریسٹ ،ٹیکسز،ڈپریشیئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن ) 2023تا2024 میں 209.92 کروڑ روپے تھی، جو 2024تا2025میںبڑھ کر273.80 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے 378.83 کروڑ روپے تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande