راہل گاندھی کے بیان پر انوراگ ٹھاکر کاجوابی حملہ، زبان اور سیاسی انداز کو نشانہ بنایا
نئی دہلی، 14 اگست (ہ س)۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے بیان پر کانگریس پارٹی پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے راہل گاندھی کی سیاسی زبان اور ان کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سیاست میں اختلافات جمہ
Anurag-thakur-remark-on-rahul


نئی دہلی، 14 اگست (ہ س)۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے بیان پر کانگریس پارٹی پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے راہل گاندھی کی سیاسی زبان اور ان کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سیاست میں اختلافات جمہوریت کا حصہ ہیں، لیکن غیر مہذب تبصرے اور آئینی عہدوں کی توہین کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

انوراگ ٹھاکر نے راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام نے کانگریس اور راہل گاندھی کو مسلسل تین بار مسترد کیا ہے اور اب وہ گالی -گلوج کی سیاست پر اتر آئے ہیں ۔ انہوں نے راہل گاندھی کی زبان کو ناشائستہ اور متکبرانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات سے کانگریس کی ذہنیت اجاگر ہوتی ہے۔

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے راہل گاندھی کو خواتین مخالف بھی قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ خواتین ریزرویشن کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے غیر ملکی خاتون پر نازیبا تبصرے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تبصرے راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ٹھاکر نے راہل گاندھی کے اقدار اور سیاسی طرز عمل پر بھی سوال اٹھایا۔

انوراگ ٹھاکر نے اپوزیشن لیڈر کے طور پر راہل گاندھی کے کردار کی بھی تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی پارلیمنٹ اور سڑک، دونوں جگہ ناکام رہے ہیں۔ ٹھاکر کے مطابق،پارلیمنٹ میں انہوں نے بحث نہیں ہونے دی اورجب چرچا کو موقع آیا تو پیپر لیک کے معاملے پربھی ٹھوس تجاویز پیش کرنے میں ناکام رہے۔

کانگریس پارٹی پر دوہرا رویہ اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی دوسروں پر ایک طرح کی تقریر کرتی ہے، جب کہ اس کا اپنا طرز عمل الگ ہوتا ہے۔ انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ جمہوری سیاست میں اختلاف رائے اور سوال کرنا فطری ہے، لیکن زبان کا معیار اور آئینی اداروں کا احترام قائم رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande