آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کی معطلی سے عالمی تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں
واشنگٹن ،13اگست (ہ س )۔ ایران اور امریکہ کے درمیان خطے میں جاری کشیدگی نے جہاں دیگر عوامل پر سخت اثر ڈالا ہے وہیں دنیا بھر میں تیل کے بحران کو مزید گہرا کیا ہے۔حالات معمول پر نہ آنے کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کے ذخائر میں تیزی سے کمی کا ریکارڈ درج
آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کی معطلی سے عالمی تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں


واشنگٹن ،13اگست (ہ س )۔

ایران اور امریکہ کے درمیان خطے میں جاری کشیدگی نے جہاں دیگر عوامل پر سخت اثر ڈالا ہے وہیں دنیا بھر میں تیل کے بحران کو مزید گہرا کیا ہے۔حالات معمول پر نہ آنے کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کے ذخائر میں تیزی سے کمی کا ریکارڈ درج کیا گیا ہے ۔

امریکی میڈیا نے ماہرین کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی معطلی کے باعث عالمی سطح پر تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے دعوے کے برعکس زمینی صورتِ حال کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔رپورٹ کے مطابق بحری جہازوں پر حملوں کے باعث جہاز رانی کمپنیوں اور عملے کو سلامتی کے خدشات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ حملے شروع ہونے کا خطرہ بھی مسلسل موجود ہے، جس سے خطے میں کشیدگی اور عالمی توانائی کی منڈی پر دباو¿ مزید بڑھ سکتا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے سے انکار کردیا ہے اور مو¿قف اختیار کیا ہے کہ جب تک اس کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، آبنائے میں آمد و رفت معمول پر نہیں آئے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande