سابق وزیر اعظم دیوبا ساڑھے پانچ ماہ بعد نیپال واپس آئے، قومی اتحاد کی اپیل
کاٹھمنڈو، 13 اگست (ہ س)۔ سابق وزیر اعظم اور نیپالی کانگریس کے سابق چیئرمین شیر بہادر دیوبا وطن واپس آ گئے ہیں۔ وہ جمعرات کو بنکاک کے راستے نیپال پہنچے۔ تریبھون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر نیپالی کانگریس کے رہنماو¿ں، کارکنوں اور خیر خواہوں نے ان کا
Nepal-Ex-PM-Deuba-Return-NC


کاٹھمنڈو، 13 اگست (ہ س)۔ سابق وزیر اعظم اور نیپالی کانگریس کے سابق چیئرمین شیر بہادر دیوبا وطن واپس آ گئے ہیں۔ وہ جمعرات کو بنکاک کے راستے نیپال پہنچے۔ تریبھون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر نیپالی کانگریس کے رہنماو¿ں، کارکنوں اور خیر خواہوں نے ان کا استقبال کیا۔

گزشتہ سال ستمبر میں زین جی تحریک کے دوران دیوبا اور ان کی اہلیہ آرزو رانا دیوبا پر حملہ کیا گیا تھا۔ ان کے گھر کو بھی آگ لگا دی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد دیوبا علاج کے لیے سنگاپور چلے گئے تھے۔اس کے بعد مارچ میںوہ مزید علاج کے لیے سنگاپور ہوتے ہوئے ہانگ کانگ پہنچے تھے۔

تقریباً ساڑھے پانچ ماہ بعد ہانگ کانگ سے بنکاک ہوتے ہوئے دیوبا جمعرات کو نیپال واپس آئے۔ کانگریس کے سابق کارگزار صدر پورن بہادر کھڈکا، پرکاشمان سنگھ، کرشن پرساد سیٹولا، آنند ڈھنگانہ، موہن بسنیت اور ویملیندر ندھی سمیت کئی لیڈر دیوبا کے استقبال کے لیے ہوائی اڈے پر پہنچے۔

نیپال واپسی پر دیوبا نے پارٹی کے اندر اتحاد اور قومی اتحاد کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اقتدار یا اختیار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے واپس آئے ہیں۔ دیوبا نے کہا کہ نیپالی کانگریس کو ملک میں سرگرم دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے اور تعاون کی بنیاد پر متحد ہو کر آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے پارٹی کے اندر نظر آنے والے اختلافات اور مایوسیوں کو فوری طور پر دور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ قومی اتحاد کو مضبوط بنانا ہے۔ دیوبا نے کہا کہ میں ایک رہنما کے طور پر نہیں بلکہ اس عظیمملک کے تاحیات شہری کے طور پر واپس آیا ہوں۔ انہوں نے ملک ، قوم پرستی، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande