
بیروت/تل ابیب، 13 اگست (ہ س)۔ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے علاقے میں گھروں، بنیادی ڈھانچے اور دیگر شہری املاک کی مبینہ ’’منظم تباہی‘‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
سلام نے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے، فوجی دراندازی، مکانات مسمار کرنا اور گھروں، بنیادی ڈھانچے، سرکاری عمارتوں اور مذہبی مقامات کی مبینہ منظم تباہی بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے گاؤں اور قصبوں کو مکمل طور پر ’’فوجی تنصیبات‘‘ قرار دیے جانے کے اسرائیلی دعوے پر بھی سوال اٹھایا۔ سلام کے مطابق، کسی علاقے کو فوجی زون قرار دینا وہاں کے گھروں کو تباہ کرنے، لوگوں کو بے گھر کرنے اور انہیں واپس آنے سے روکنے کا جواز نہیں بن سکتا۔
دوسری جانب اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان کا دورہ کیا اور کہا کہ اسرائیلی فوج مبینہ ’’سکیورٹی زون‘‘ میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی۔
کاٹز نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) علاقے میں زیرِ زمین ڈھانچوں کو تباہ کرنے کی کارروائی کر رہی ہیں۔ انہوں نے جنوبی لبنان میں گھروں کو مسمار کیے جانے کا بھی دفاع کیا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں کا مقصد سکیورٹی خطرات اور حزب اللہ سے منسلک فوجی ڈھانچے کو ختم کرنا ہے۔ دوسری جانب لبنانی حکومت کا الزام ہے کہ ان کارروائیوں سے شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے تباہ کئے جا رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد