
نئی دہلی، 13 اگست (ہ س)۔
مرکزی حکومت کے اہم پالیسی تھنک ٹینک نیتی آیوگ نے جمعرات کو کہا کہ بھارت کو 2047 تک عالمی مینوفیکچرنگ مرکز بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر پیداوار، مسابقتی صلاحیت، اختراع اور عالمی ویلیو چینز کے ساتھ انضمام پر مرکوز حکمتِ عملی کی ضرورت ہوگی۔
نیتی آیوگ نے ’بھارت کو عالمی مینوفیکچرنگ مرکز بنانے کے لیے اہم شعبے‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں کیمیکل، ٹیکسٹائل، ٹیلی کمیونیکیشن و نیٹ ورک آلات اور سولر پی وی مینوفیکچرنگ کو صنعتی ترقی میں تیزی لانے والے چار اہم شعبوں کے طور پر نشان زد کیا ہے۔
رپورٹ جاری کرتے ہوئے نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین اشوک کمار لا ڑی نے کہا، ”بھارت اپنی اقتصادی اور صنعتی ترقی کے سفر کے ایک اہم مرحلے میں ہے۔ ’وکست بھارت @2047‘ کے ہدف کی جانب بڑھتے ہوئے مینوفیکچرنگ مستقبل کی ترقی کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔“
انہوں نے کہا کہ دنیا کی بڑی صنعتی معیشتوں کے تجربے سے واضح ہوتا ہے کہ مسلسل اقتصادی تبدیلی کے لیے ایک مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی مینوفیکچرنگ بنیاد ضروری ہے۔ لا ڑی نے کہا کہ مینوفیکچرنگ سرمایہ کاری، اختراع اور برآمدات کو فروغ دینے کے ساتھ معیاری روزگار پیدا کرتی ہے، پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے اور معیشت کے مختلف شعبوں کے درمیان روابط کو مضبوط بناتی ہے۔
آیوگ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق ان شعبوں کے ذریعے روزگار پیدا کرنے، تکنیکی صلاحیتوں کو بہتر بنانے، خود انحصاری کو مضبوط کرنے اور بین الاقوامی منڈیوں میں بھارت کی موجودگی بڑھانے کے مواقع موجود ہیں۔
رپورٹ میں نیتی آیوگ نے ایک ہدف پر مبنی اور اعداد و شمار سے چلنے والی حکمتِ عملی پر زور دیا ہے۔ اس کے تحت مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں مینوفیکچرنگ کے حصے کو 25 فیصد سے زیادہ تک بڑھانے، 10 کروڑ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اہم شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ