ہرمز کے تعلق سے ایران کا امریکہ کو غلط فہمی سے بچنے کا مشورہ
تہران، 13 اگست (ہ س)۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو آبنائے ہرمز کو لے کر انٹیلی جنس اندازے میں کسی بھی طرح کی بڑی غلط فہمی سے بچنے کی صلاح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس نظام کی ناکامیوں کی وجہ سے واشنگٹن پہلے بھی ایران
علامتی تصویر


تہران، 13 اگست (ہ س)۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو آبنائے ہرمز کو لے کر انٹیلی جنس اندازے میں کسی بھی طرح کی بڑی غلط فہمی سے بچنے کی صلاح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس نظام کی ناکامیوں کی وجہ سے واشنگٹن پہلے بھی ایران کے خلاف جنگ کو لے کر غلط اندازہ لگا چکا ہے اور اب وہی مسئلہ ہرمز کے معاملے میں دہرایا جا سکتا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز کے مطابق، عراقچی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ طویل عرصے سے انٹیلی جنس ناکامیوں کی وجہ سے غلط نتائج پر پہنچتا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ فرضی خبروں سے بھی زیادہ خطرناک ”فرضی انٹیلی جنس معلومات“ ہو سکتی ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ کا یہ تبصرہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کا آبنائے ہرمز پر پورا کنٹرول ہے۔ ٹرمپ نے بدھ کو اپنے ’ٹروتھ سوشل‘ اکاونٹ پر آبی گزرگاہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ اسے اپنے کنٹرول میں رکھے گا۔

آبنائے ہرمز کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب علاقے میں فوجی سرگرمیاں تیز ہیں۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے انتہائی اہم مانی جاتی ہے۔

اس دوران، آبنائے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں بھاری گراوٹ آئی ہے۔ ایک ہفتے کی مدت میں یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد گھٹ کر 8 کی سطح پر آ گئی۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ علاقے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے درمیان شپنگ کمپنیاں اس حکمتِ عملی پر مبنی آبی گزرگاہ سے گزرنے کے حوالے سے کافی احتیاط برت رہی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande