
نئی دہلی، 13 اگست(ہ س)۔ زمرہ ون اور زمرہ ٹو میں ہندوستان پر مرکوز فنڈز کے لیے انویسٹمنٹ منیجر کے طور پر کام کرنے اور ہندوستان میں کمپنیوں کو سرمایہ فراہم کرنے والے آف شور فنڈز کے مشیر کے طور پر کام کرنے والی کمپنی گاجاالٹرنیٹوایسیٹ مینجمینٹ نے اپنے آئی پی او کے آغاز کا اعلان کردیا ہے۔ کمپنی کا 550 کروڑ روپے کا آئی پی او 19 اگست کو کھل جائے گا۔
اس آئی پی او میں سرمایہ کار 21 اگست تک بولی لگا سکیں گے۔ اینکر انویسٹرز 18 اگست کو آئی پی او میں بولی لگائیں گے۔ حصص 24 اگست کو ایشو بند ہونے کے بعد الاٹ کیے جائیں گے، جبکہ 25 اگست کو الاٹ کیے گئے حصص ڈیمیٹ اکاو¿نٹ میں جمع کیے جائیں گے۔ کمپنی کے حصص 26 اگست کو بی ایس ای اور این ایس ای پر درج ہونے کا امکان ہے۔
اس آئی پی او میں بولی لگانے کے لیے 152 روپے سے 160 روپے فی حصص کا پرائس بینڈ طے کیا گیا ہے، جبکہ لاٹ کا سائز 93 حصص ہے۔ اس آئی پی او میں خوردہ سرمایہ کار کم از کم ایک لاٹ یعنی 93 حصص کے لیے بولی لگا سکتے ہیں، جس کے لیے انہیں 14,880روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اسی طرح، خوردہ سرمایہ کار1,93,440 روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ زیادہ سے زیادہ 13 لاٹس1,209 حصص کے لیے بولی لگا سکتے ہیں۔ اس آئی پی او کے تحت 5 روپے کی فیس ویلیو والے کل 3,43,75,000حصص جاری کیے جا رہے ہیں۔ اس میں سے تقریبا 450 کروڑ روپے کے 2,81,25,000نئے حصص جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ تقریبا 100 کروڑ روپے کے 62,50,000حصص پیشکش برائے فروخت ونڈو کے ذریعے فروخت کیے جا رہے ہیں۔
ایشو کا زیادہ سے زیادہ 50 فیصد اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ مزید، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے کم از کم 35 فیصد اور غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے کم از کم 15 فیصد مختص ہے۔ جے ایم فنانشل لمیٹڈ کو اس ایشو کا بک رننگ لیڈ مینیجر مقرر کیا گیا ہے۔جبکہ ایم یو جی ایف ان ٹائم انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کو رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔
گاجا الٹرنیٹیو ایسیٹ مینجمنٹ کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو، جیسا کہ کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کیے گئے اس کے ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مسودے میں دعوی کیا گیا ہے، اس کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2023تا2024میں کمپنی کا خالص منافع 44.74 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 61.95 کروڑ روپے ہو گیا اور گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں بڑھ کر 81.96 کروڑ روپے ہو گیا۔
اس دوران کمپنی کی آمدنی کی وصولیابی میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال 2023تا2024میں 103.96 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 123.31 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026میں کمپنی نے 157.80 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی۔
اس دوران کمپنی کا قرض بھی مسلسل بڑھتا گیا۔ مالی سال 2023تا2024کے اختتام پر کمپنی پر 3.51 کروڑ روپے کا قرض کا بوجھ تھا، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 4 کروڑ روپے اور مالی سال 2025تا2026میں 41.56 کروڑ روپے ہو گیا۔
اس دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال2023تا2024 میں یہ 331.88 کروڑ روپے تھی، جو کہ 2024تا2025 میں بڑھ کر 388.97 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کی مجموعی مالیت تیزی سے بڑھ کر 606.52کروڑ روپے ہوگئی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی